عمران خان عدالتی تحویل میں ہیں، علاج کی ذمہ داری عدالت کی ہے: رانا ثنااللہ

0
536

اسلام آباد: سینیٹ اجلاس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت سے متعلق اپوزیشن کے خدشات پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بحث ہوئی۔

قائد حزب اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان ملک کے باوقار سیاستدان ہیں اور انہیں ذہنی اذیت دی جارہی ہے۔ انہوں نے بانی پی ٹی آئی کی صحت کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا۔

راجہ ناصر عباس نے کہا کہ عمران خان نے ملک میں کوئی ذاتی کاروباری مفاد قائم نہیں کیا اور ان کے ساتھ ہونے والے سلوک پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔

وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثنااللہ نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ قانون اور قواعد کے مطابق جو شخص عدالتی تحویل میں ہو، اس کے معاملات کا اختیار عدالت کے پاس ہوتا ہے۔ اگر علاج میں کوئی کوتاہی ہو تو اس کی ذمہ داری بھی متعلقہ عدالتی نظام کے دائرہ اختیار میں آتی ہے۔

رانا ثنااللہ نے کہا کہ عمران خان کے بلڈ پریشر سے متعلق معلومات حاصل کی گئی ہیں تاہم اپوزیشن لیڈر کی جانب سے ظاہر کی گئی تشویش کی تصدیق نہیں ہوئی۔ ان کے مطابق عمران خان کے خاندان کی جانب سے تجویز کردہ ڈاکٹروں کو بھی طبی ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ عدالت میں پی ٹی آئی کی درخواستوں پر سماعت جاری ہے اور معاملہ عدالتی فورم پر زیر غور ہے۔

دوسری جانب سینیٹر اعظم سواتی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی زندگی سے نہ کھیلا جائے اور عمران خان اور ان کی اہلیہ کی صحت سے متعلق معاملات فوری طور پر حل کیے جائیں۔

اعظم سواتی نے کہا کہ ڈاکٹروں نے سپریم کورٹ میں رپورٹ جمع کرائی ہے اور تجویز دی کہ حکومت، راجہ ناصر عباس اور محمود اچکزئی مل بیٹھ کر معاملے پر بات کریں۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا