اسلام آباد(مسعود چوہدری) حج 2027 کے لیے درخواستوں اور ادائیگیوں کے آغاز کے ساتھ ہی وزارتِ مذہبی امور کی جانب سے صرف حبیب بینک لمیٹڈ کو دی گئی مکمل ذمہ داری کا فیصلہ عملی سطح پر پہلے روز سے ہی سوالیہ نشان اور درد سر بن گیا ہے۔ درخواستوں کی وصولی کی تاریخ 17 اگست سے تبدیل کر کے 18 اگست کی گئی، تاہم اس کے باوجود ابتدائی دنوں میں ہی متعدد تکنیکی و انتظامی مسائل سامنے آ گئے ہیں۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر بینک کے جاری کردہ اشتہار کے تحت درجنوں صارفین نے اپنے تلخ تجربات بیان کیے۔ صارف ذوہیب شبیر نے شکایت کی کہ بینک کا نظام پی ایس آئی ڈی درخواستیں اور کارڈ کے ذریعے ادائیگیاں پروسیس کرنے میں ناکام رہا۔ صارف علی تیمور نے لکھا کہ برانچ میں محض ایک درخواست جمع کرانے کے لیے پانچ گھنٹے انتظار کرنا پڑا کیونکہ کسٹمرز سے نمٹنے کے لیے صرف ایک کیشیئر موجود تھا اور اسے انتہائی ناقص بینکاری تجربہ قرار دیا۔ صارف اشرف جان نے عملے کے رویے پر تنقید کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ عملے کو گاہکوں سے بات چیت کا طریقہ سکھایا جائے۔ صارف عدنان مقبول نے پی ایس آئی ڈی میں ‘یوٹیلٹی کمپنی آئی ڈی نہ ملنے’ کی تکنیکی خرابی کی نشاندہی کی۔
صارف محمد حماد نے بتایا کہ پی ایس آئی ڈی کے ذریعے تاحال کسی کی بھی آن لائن ادائیگی مکمل نہیں ہو سکی۔ صارف اسرار منیر نے مقامی برانچ کی مکمل ناکامی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ“سرور ڈاؤن”ہونے کے باعث ادائیگی ممکن ہی نہ ہو سکی۔ صارف اشفاق دلاور نے بینک کے نظام کو حج کے مرکزی نظام سے درست طور پر مربوط نہ ہونے پر تنقید کی۔ جبکہ صارف ندیم خان نے بتایا کہ پشاور کی وارثک روڈ برانچ میں متعلقہ عملہ رخصت پر ہونے کے باعث ادائیگی وصول کرنے سے ہی معذرت کر لی گئی۔بینک کی جانب سے تقریباً ہر شکایت پر ایک جیسا روایتی جواب دیا گیا کہ معاملے کو متعلقہ ٹیم تک پہنچا دیا گیا ہے اور جلد از جلد حل کرنے کی کوششیں جاری ہیں
جبکہ ذوہیب شبیر، علی تیمور، عدنان مقبول، محمد حماد، اسرار منیر اور اشفاق دلاور سمیت متعدد صارفین سے نجی پیغام کے ذریعے تفصیلات طلب کی گئیں۔معروف صحافی امین حفیظ کی جانب سے شیئر کی گئی ایک ویڈیو رپورٹ میں متعدد درخواست گزاروں نے ڈیجیٹل اور برانچ دونوں ذرائع سے ادائیگی مکمل کرنے میں دشواری کی شکایت کی۔شارٹ حج پیکج کے ایک درخواست گزار نے بتایا کہ آن لائن PSID بنانے کی کوشش پر غلط فارمیٹ کا شناختی نمبر موصول ہوا، جس کے بعد دستی چالان کے ساتھ HBL برانچ جانے پر بتایا گیا کہ متعلقہ بینکنگ لنک ہی ڈاؤن ہے، جبکہ وہ صبح سے برانچ میں انتظار میں تھا۔ ایک اور درخواست گزار کے مطابق پیمنٹ آپشن توقع سے دیر سے ایکٹو ہوا اور اس کے بعد پورٹل بار بار بیٹھ گیا، حالانکہ خاندان کی رجسٹریشن مکمل ہو چکی تھی۔
یہی مشکلات وزارتِ مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی کے سرکاری فیس بک پیج پر آنے والے صارفین کے کمنٹس میں بھی جھلکتی نظر آئیں۔ متعدد صارفین نے شکایت کی کہ کارڈ سے رقم منہا ہو جانے کے باوجود درخواست کا اسٹیٹس بدستور“unpaid”ہی ظاہر ہو رہا ہے، جبکہ ہیلپ لائن سے رابطے کی کوششیں بھی بیسود رہیں۔ نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (NITB) نے ان تکنیکی خرابیوں پر کام جاری ہونے کی تصدیق کی ہے۔روزنامہ طلوع ریسرچ ٹیم کی جانب سے مجتمع کی گئی تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا پلیٹ فارمز فیس بک، انسٹاگرام اور تھریڈز کی 147 پوسٹس پر تقریباً 5,800 کمنٹس کا تجزیہ کیا گیا۔
اسی جائزے کے مطابق مجموعی رجحان کی تفصیلات کے مطابق مجموعی طور پر 84 فیصد صارفین نے ناراضگی کا اظہار کیا ہے جبکہ 62 فیصد صارفین نے اپنے کمنٹس میں شکایت کا اظہار کیا ہے۔ HBL کی اجارہ داری، مہنگاء، ڈی جی اوپیپ جدہ کی غیر قانونی تعیناتی، مہنگاء، اور 2026 کے بقایا ریفنڈ جیسے موضوعات نمایاں رہے۔ 23 فیصد صارفین بنیادی طور پر اپلائی کے طریقہ کار، قسطوں اور پرائیویٹ اسکیم سے متعلق سوالات کرتے پائے گئے جبکہ 15 فیصد صارفین ڈیجیٹل نظام اور وزیر مذہبی امور کی کارکردگی سے متعلق تعریف کرتے پائے گئے ہیں۔اسی جائزہ رپورٹ کے مطابق، شکایات میں سب سے زیادہ 38 فیصد صارفین نے صرف HBL کی اجارہ داری پر، جبکہ 29 فیصد صارفین نے حج کی قیمتوں میں اضافہ اور مہنگائی پر مرکوز ہیں۔ وزارت کے سرکاری فیس بک پیج پر وزیر سردار محمد یوسف کی 10 اگست کی HBL معاہدے والی ویڈیو پر آنے والے تقریباً 300 کمنٹس میں سے 70 فیصد سے زائد کمنٹس سوالات یا شکایات پر مبنی پائے گئے ہیں۔ یاد رہے کہ وفاقی کابینہ نے 7 جولائی 2026 کو وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت اجلاس میں حج پالیسی و پلان 2027-2030 کی منظوری دی گء،جبکہ پاکستان کا مجموعی حج کوٹہ ایک لاکھ 79 ہزار 210 مقرر کیا گیا ہے، جس میں سے سرکاری اسکیم کے لیے ایک لاکھ 7 ہزار 526 (60 فیصد) جبکہ نجی اسکیم کے لیے 71 ہزار 684 (40 فیصد) نشستیں مختص کی گئی ہیں۔ حج اخراجات دو مساوی اقساط میں وصول کیے جائیں گے، درخواست کے ساتھ نصف رقم جمع کرانا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ یوں تقریباً 1 کھرب 30 ارب روپے سے زائد رقم حبیب بینک پاکستان کو اکٹھی ہونی ہے، جبکہ الراجحی کو حجاج کی دیکھ بھال کا ٹھیکہ دینے اور ڈی جی او پی اے پی جدہ عبدالوہاب سومرو کے کردار، تعیناتی اور غیرقانونی فیصلوں پر پہلے ہی سوالیہ نشانات سینیٹ اور قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹیوں میں زیرِ بحث ہیں۔ناقدین کا کہنا ہے کہ اربوں روپے مالیت کے اس منصوبے میں ابتدائی دنوں میں ہی سامنے آنے والی تکنیکی خرابیاں اور انتظامی سستی، سولہ بینکوں کو نظرانداز کر کے ایک ہی ادارے کو دی گئی مکمل اجارہ داری کے فیصلے پر نئے سرے سے سوالات کھڑے کر رہی ہیں۔
واضح رہے کہ موجودہ وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب فروری 2018 سے مارچ 2024 تک حبیب بینک کے صدر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر رہے ہیں اور استعفے کے فوراً بعد وفاقی کابینہ میں وزیرِ خزانہ مقرر ہوئے تھے، جس کے باعث ممکنہ مفادات کے ٹکراؤ سے متعلق سوالات پہلے سے زیرِ بحث ہیں۔ جبکہ واضح رہے کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت سازی کے دوران حبیب بینک کے چیئرمین سلطان علی علانہ کا نام بھی وزارتِ خزانہ کے لیے زیرِ غور رہا تھا، جس سے حبیب بینک کی اعلیٰ سطحی سیاسی و انتظامی حلقوں تک رسائی کا اندازہ ہوتا ہے۔ اسی طرح پاکستان بینکس ایسوسی ایشن کی حالیہ ایگزیکٹو کمیٹی میں حبیب بینک کے موجودہ صدر و چیف ایگزیکٹو آفیسر ناصر سلیم کو سینئر وائس چیئرمین منتخب کیا گیا ہے، یعنی ملکی بینکاری صنعت کی مرکزی نمائندہ تنظیم میں بھی حبیب بینک کو کلیدی مقام حاصل ہے۔وزارتِ مذہبی امور اور حبیب بینک لمیٹڈ کا مؤقف موصول ہوتے ہی شامل کیا جائے گا۔۔






