اسلام آباد: نیپرا نے بجلی کی پیداوار اور ترسیل سے متعلق 11 سالہ انٹیگریٹڈ سسٹم پلان 2035-2025 کی مشروط منظوری دے دی ہے، جس کے تحت آئندہ 11 برس کے دوران بجلی پیداوار اور ترسیل کے شعبوں میں مجموعی طور پر 58 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔
نیپرا کے مطابق منصوبے میں 26 ہزار 45 میگاواٹ نئی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت شامل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس میں 17 ہزار 485 میگاواٹ کمٹڈ جبکہ 8 ہزار 560 میگاواٹ آپٹیمائزڈ پیداواری صلاحیت شامل ہوگی۔ منصوبے کے تحت 2 ہزار 577 میگاواٹ کی پرانی پیداواری صلاحیت کو مرحلہ وار ریٹائر کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔
نیپرا کا کہنا ہے کہ منصوبے پر عمل درآمد کے نتیجے میں 2035 تک ملک کی مجموعی نصب شدہ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت 62 ہزار 657 میگاواٹ تک پہنچنے کا امکان ہے۔ منصوبے میں 8 ہزار 120 میگاواٹ نیٹ میٹرنگ کی صلاحیت بھی شامل کی گئی ہے۔
منصوبے کے تحت اضافی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کے لیے 47 ارب ڈالر سے زائد سرمایہ کاری درکار ہوگی جبکہ ٹرانسمیشن کے منصوبوں پر 10 ارب 65 کروڑ ڈالر خرچ ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ ٹرانسمیشن نظام کو مضبوط بنانے، نئی ترسیلی لائنوں اور گرڈ اسٹیشنز کی تعمیر بھی منصوبے کا حصہ ہے۔
آئی ایس پی میں گوادر اور مکران کے لیے 40 میگاواٹ کے پاور پلانٹ کی گنجائش جبکہ دھابیجی میں 269 میگاواٹ کا ونڈ سولر ہائبرڈ منصوبہ بھی شامل کیا گیا ہے۔
دوسری جانب نیپرا نے 90 کروڑ ڈالر کے بیٹری انرجی اسٹوریج منصوبے کی منظوری نہیں دی۔ نیپرا کے مطابق بیٹری اسٹوریج منصوبوں کو شامل کرنے سے قبل جامع تکنیکی اور معاشی مطالعہ ضروری ہے تاکہ ان منصوبوں کی افادیت، لاگت اور نظام پر اثرات کا درست اندازہ لگایا جاسکے۔
نیپرا کے ارکان نے انڈیپنڈنٹ سسٹم مارکیٹ آپریٹر کی جانب سے بڑے منصوبوں کو پلان میں شامل کرنے اور نکالنے کے طریقہ کار پر بھی سوالات اٹھائے۔ ارکان نے قومی توانائی منصوبہ بندی میں مشترکہ مفادات کونسل کو نظرانداز کرنے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قومی بجلی پالیسی میں کسی بھی تبدیلی کے لیے مشترکہ مفادات کونسل کی منظوری ضروری ہے۔
چیئرمین نیپرا سمیت تینوں ارکان نے فیصلے میں اپنی اختلافی آرا بھی شامل کیں۔ اختلافی نوٹس میں بالخصوص مشترکہ مفادات کونسل کی منظوری کے بغیر منصوبوں کی شمولیت یا اخراج سے متعلق امور پر تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔
تاہم اختلافی آرا اور تحفظات کے باوجود نیپرا نے انٹیگریٹڈ سسٹم پلان 2035-2025 کی مشروط منظوری دے دی ہے، جس کے تحت آئندہ 11 برس میں ملک کے بجلی پیداوار اور ترسیلی نظام میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری اور توسیع متوقع ہے۔






