کوہاٹ: پولیس لائنز کے قریب مسجد میں نماز جمعہ کے دوران خودکش دھماکے اور فائرنگ کے واقعے میں پولیس اہلکاروں سمیت 21 افراد شہید جبکہ 78 زخمی ہوگئے۔ پولیس کے مطابق واقعے کے بعد سکیورٹی فورسز اور پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی، جس میں 6 دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔
پولیس کے مطابق دھماکا نماز جمعہ کے دوران ہوا، جس کے باعث مسجد کے باہر گہرا گڑھا پڑ گیا جبکہ مسجد کا بیرونی حصہ شدید متاثر اور ایک دیوار بھی گر گئی۔
ڈی ایچ او کوہاٹ ڈاکٹر ناصر حسین کے مطابق دھماکے میں 16 پولیس اہلکاروں اور 5 عام شہریوں سمیت 21 افراد شہید جبکہ 78 افراد زخمی ہوئے۔ زخمیوں میں پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔
آئی جی خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید کے مطابق بارود سے بھری گاڑی پرانی پولیس لائنز کے گیٹ سے ٹکرائی، جس کے بعد زوردار دھماکا ہوا اور فائرنگ بھی شروع ہوگئی۔ فائرنگ کے دوران اسپیشل برانچ کی عمارت پر ایک اور خودکش دھماکا کیا گیا۔
سینٹرل پولیس آفس پشاور کے مطابق 7 مسلح دہشت گرد پولیس لائنز میں داخل ہوئے تھے، جن کا پولیس اور سی ٹی ڈی نے بھرپور مقابلہ کیا۔ کارروائی کے دوران اب تک 6 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا گیا ہے۔ ہلاک دہشت گردوں میں خودکش بمبار اور اسنائپر بھی شامل ہیں۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق سکیورٹی فورسز اور پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے رکھا ہے جبکہ مزید نفری بھی پولیس لائنز کے قریب پہنچ گئی ہے۔ پولیس نے کوہاٹ، ہنگو روڈ کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کردیا ہے۔
ریسکیو حکام کے مطابق دھماکے سے قریبی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا ہے، جبکہ جائے وقوعہ پر امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔
ڈی ایچ کیو اسپتال میں ایمرجنسی نافذ
دھماکے کے زخمیوں کو ڈی ایچ کیو اسپتال منتقل کردیا گیا جہاں واقعے کے بعد ایمرجنسی نافذ کردی گئی۔ ایم ایس ڈی ایچ کیو اسپتال طاہر علی شاہ کے مطابق زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کی جارہی ہے، جبکہ شدید زخمیوں کو دیگر اسپتالوں میں منتقل کرنے کے انتظامات بھی کیے جارہے ہیں۔
وزیراعلیٰ کے پی کا واقعے کا نوٹس
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کوہاٹ دھماکے کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس حکام سے رپورٹ طلب کرلی۔ انہوں نے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کا یہ بزدلانہ واقعہ انتہائی افسوسناک اور ناقابل قبول ہے۔
وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے کر تفصیلی رپورٹ پیش کی جائے اور زخمیوں کو فوری طبی امداد کی فراہمی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں۔ انہوں نے اسپتالوں میں زخمیوں کے علاج اور ضروری طبی سہولیات کی دستیابی یقینی بنانے جبکہ شدید زخمیوں کو دیگر اسپتالوں میں منتقل کرنے کے انتظامات کی بھی ہدایت کی۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ دہشت گردی کی بزدلانہ کارروائیوں سے قوم کے حوصلے پست نہیں کیے جاسکتے۔





