جیل بھجوانا تو دور کسی کو ناجائز تنگ بھی نہیں کیا،شہبازشریف

0
149

اسلام آباد(طلوع نیوز) وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ 16 ماہ میری زندگی کا مشکل امتحان تھا، اتنا کڑا امتحان 38 سالہ سیاسی کیریئر میں نہیں دیکھا، مختصر ترین حکومت میں بے پناہ چیلنجز کا سامنا تھا، گزشتہ حکومت کی ناکامیوں کا بوجھ بھی ہم پر آپڑا، آج رات صدر پاکستان کو اسمبلی کی تحلیل کی ایڈوائس بھیجوں گا۔

قومی اسمبلی میں الوداعی خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ اتحادیوں نے مجھ نا چیز پر اعتماد کر کے وزیر اعظم منتخب کروایا، اتحادیوں کا ہمیشہ شکر گزار رہوں گا، گزشتہ حکومت نے آئی ایم ایف معاہدے کو تار تار کیا، بدترین غفلت کی بنا پر پاکستان کو نقصان ہوا، سائفر کے جھوٹ پر مبنی ڈرامے نے آگ پر جلتی کا کام کیا، چین کیخلاف بے بنیاد پراپیگنڈا کیا گیا، ایوان میں سب کو چور، ڈاکو کہا گیا۔

وزیر اعظم نے کہا ہے کہ یہ ہیں وہ حالات سرمنڈاتے ہی اولے پڑے، حالات کی اتنی سنگینی کا اندازہ نہیں تھا، روس، یوکرین جنگ کی وجہ سے پٹرول کی قیمتیں بڑھانا پڑتی تھیں، ہمیں اربوں ڈالر کی بیرون ملک سے گندم منگوانا پڑی، گزشتہ حکومت میں چند لوگوں کی جیبیں بھری گئیں، گزشتہ حکومت نے اپوزیشن کو دیوار سے لگانے کی کوشش کی، 16 ماہ میں کسی سیاسی مخالف کو جیل بھجوانا تو دور ناجائز تنگ بھی نہیں کیا۔

شہباز شریف نے کہا کہ ایک پارٹی کے لیڈر کو سزا ملی تو ہمیں کوئی خوشی نہیں، دشمن کو بھی سزا ملے تو خوشی نہیں منانی چاہیے، اگر کسی نے مٹھائی بانٹی تو اچھی روایات نہیں، رہتی دنیا تک 9 مئی کو سیاہ دن کے طور پر یاد رکھا جائے گا، دہشت گردی کیخلاف جنگ میں 80 ہزار پاکستانیوں نے شہادتیں دیں، سابق وزیر اعظم نے دہشتگردوں کو دعوت دی اور انہوں نے سوات میں آکر ادھم مچایا۔

انہوں نے کہا ہے کہ سوال کرنا چاہتا ہوں کیا 80 ہزار پاکستانیوں کی قربانیوں کا یہ صلہ ہے، پورے ملک میں امن اور چین تھا، ڈیفالٹ کی باتیں کرنے والوں کا مکروہ چہرہ بے نقاب ہوا، آئی ایم ایف معاہدے کے بعد مشکلات سے نکل آئے ہیں، اگر اللہ نے اسی گلدستے کو کامیاب کیا تو دنیا میں مہک پھیلے گی، سیاست دان کی گردن میں سریا نہیں ہونا چاہیے جھکنا چاہیے، اختر مینگل کا اچھے الفاظ کہنے پر شکر گزار ہوں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ بلوچستان ترقی میں پیچھے رہ گیا، صوبے کے ساتھیوں کے جائز مطالبات کو تسلیم کرتا ہوں، سیاسی افراتفری، لانگ مارچوں کے باوجود گوادر چار مرتبہ گیا، بلوچستان کے کچھ مسائل حل ہوئے، برداشت صبر سے کام لیں جو بھی حکومت ہو گی مسائل حل کرے گی، آج محترمہ شہید، نواز شریف کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، 13 جماعتی اتحاد کی حکومت تاریخ کا انوکھا واقعہ ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ سپیکر قومی اسمبلی کا شکر گزار ہوں،ان کیلئے زور سے تالیاں بجائیں، بلاول بھٹو نے بہترین سفارتکاری کی ہے ان کا بڑا برائٹ فیوچر ہے، خواجہ آصف عمر میں مجھ سے دس سال بڑے ہیں، اسحاق ڈار نے بڑی محنت سے کام کیا راتوں کو جاگے، وزیر تعلیم رانا تنویر بیرون ملک دوروں پر زیادہ رہتے ہیں، نوید قمر بڑے کام کے آدمی ہیں، بلاول سے کہوں گا انہیں (ن) لیگ میں بھیج دیں۔

انہوں نے کہا کہ سیاست کے میدان میں خورشید شاہ بہت بڑے رہنما ہیں، یہ محفل جلد دوبارہ لگے گی، سابق وزیر اعظم کی غلطیوں سے نہیں آپ کے ووٹوں کی وجہ سے وزیر اعظم بنا ہوں، حسین یادیں میری زندگی کا حصہ ہیں، اللہ نے جس کو بھی موقع دیا مل کر پاکستان کو عظیم بنائیں گے، کل راجہ ریاض سے پہلی ملاقات ہو گی، اگر ہم فیصلہ نہ کر سکے تو پھر معاملہ الیکشن کمیشن کے پاس جائے گا۔

قبل ازیں کابینہ کے الوداعی اجلاس سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ 11 اپریل 2022ء کو قومی اسمبلی نے ہم پر اعتماد کیا تھا، مدت مکمل ہونے پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں، یہ تاریخ کی مختصر ترین حکومت تھی۔

وزیر اعظم نے کہا کہ سر منڈاتے ہی اولے پڑے، حالیہ سیلاب نے پورے پاکستان میں تباہی مچائی، سیلاب بہت بڑا چیلنج تھا، سیلاب کے دوران چاروں صوبوں نے دن رات محنت کی، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے 80 ارب تقسیم کیے گئے، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی شفافیت کو دنیا جانتی ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ بلاول بھٹو، وزیراعلیٰ سندھ نے سیلاب کے دوران دن رات کام کیا، سیلاب کے دوران کسی صوبے کے ساتھ کوئی تفریق نہیں کی گئی، سیلاب سے سندھ سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ تھا، ٹیم ورک کے نتیجے میں سیلاب متاثرین کی مدد کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ جنرل (ر) باجوہ، کور کمانڈر ملتان کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں، شازیہ مری، شیری رحمان کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں، وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے زبردست ڈپلومیسی کی، انہوں نے کہا کہ 16 ماہ اس طرح کے چیلنجز کا مقابلہ کیا، مہنگائی کا طوفان ہے جو ابھی تک تھمنےکا نام نہیں لے رہا۔

وزیراعظم نے کہا کہ مہنگائی کی بے شمار وجوہات ہیں، گزشتہ حکومت کی 4 سالہ غفلت کے نتیجے میں داخلی و خارجہ محاذ پر پاکستان کے نام کو بری طرح مجروح کیا گیا، آج کابینہ کا آخری اجلاس ہے، چاروں صوبوں کی نمائندگی مخلوط حکومت میں شامل تھی، 16 ماہ تمام مشکلات کے باوجود ہم سب یکجا رہے، پاکستان کو بچانے میں سب نے اپنی سیاست کو قربان کیا اور ریاست کو بچایا، تاریخ ہمیشہ آپ لوگوں کو یاد رکھے گی۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ تیل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں، کبھی اوپر کبھی قیمتیں نیچے جاتی ہیں، ہماری سیاست کے بجائے قومی خزانے کو بھرنے کی سوچ تھی، نگران حکومت کے بعد انتخاب ہوں گے، جو بھی حکومت جس طرح آئے گی شبانہ روز محنت کریں گے۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف، آصف زرداری، مولانا فضل الرحمان، چودھری شجاعت حسین، خالد مقبول صدیقی کا شکر گزار ہوں۔

شہباز شریف نے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام کے دوران ہم نے ہمت نہیں ہاری، اگر اللہ کا فضل نہ ہوتا تو شاید آئی ایم ایف پروگرام نہ ہوتا، اسحاق ڈار کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتا ہوں اور انہیں مبارکباد پیش کرتا ہوں، قرضوں کو رول اوور کرنے پر چین کے شکر گزار ہیں، چینی نائب صدر نے دورہ کر کے ثابت کیا پاکستان بہترین دوست ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ 9 مئی کا سانحہ تاریخ کا المناک سانحہ تھا، 9 مئی پاکستان کے خلاف بدترین سازش تھی، 9 مئی پاکستان کے سپہ سالار کے خلاف سازش تھی، سابق وزیراعظم نے جتھے کو تیار کیا تھا، 9 مئی پاکستان کو تباہ کرنے کی سازش تھی، اگر وہ سازش کامیاب ہو جاتی تو پاکستان کا کیا حشر ہوتا تصویر کشی نہیں کر سکتا۔

انہوں نے کہا کہ اللہ نے اس بھیانک، ناپاک سازش سے بچایا، جی ایچ کیو میں شہدا کی فیملیز سے ملاقات ہوئی، شہدا نے جانوں کے نذرانے پیش کیے، دہشت گردی کےخلاف جنگ آج بھی جاری ہے، دہشت گردوں نے یونیورسٹیوں، جی ایچ کیو، بازاروں پر حملے کیے۔

شہباز شریف نے کہا کہ افواج پاکستان نے ضرب عضب، ردالفساد آپریشن کیا، سیاسی و مذہبی جماعتوں نے افواج پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا، کسی کا پتھر کا دل بھی ہو وہ شہدا کے مجسموں کو نشانہ نہیں بنا سکتا، 9 مئی کو شہدا کی فیملیز پر کیا بیتی ہو گی، 9 مئی کے دلخراش واقعے سے ہم نے سبق حاصل کرنا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ایک طرف ایک جتھہ، دوسری طرف قوم کا اتحاد تھا، آرمی چیف نے اپنی پختہ لیڈر شپ دکھائی اور معاملات گھنٹوں میں قابو میں آگئے، اللہ نہ کرے ایسا واقعہ دوبارہ رونما ہو، قومی اتحاد انتہائی ضروری ہے، اس کے بغیر ملک آگے نہیں چل سکتا، صوبوں کے درمیان گیپ کو کم کرنا ہو گا۔

شہباز شریف نے کہا کہ لوگوں نے کہا یہ اتحاد تو دو ہفتے نہیں چلے گا، ہم نے جو نیک نامی کمائی قیامت تک کوئی نہیں کر سکے گا، ہم نے ہمالیہ نما مسائل حل کیے، سول ملٹری ریلیشن شپ پر کتابیں لکھی گئیں۔

انہوں نے کہا کہ 75 سال میں پاکستان کو پاؤں پر کھڑا کرنے کے لیے کوششیں ہوئیں مگر 34 سال مارشل لا میں گزر گئے، ہمسایہ ملک ہم سے کہیں آگے نکل گئے، کوئی تو وجہ ہو گی ہم پیچھے رہ گئے، یہ کیسے ہو سکتا ہے، پدی پدی جیسے ملک آگے نکل گئے، یہ ہم سب کے لیے لمحہ فکریہ ہے، پہلے اپنے پھر کسی اور کو ذمہ دار ٹھہراؤں گا، ترقی اور خوشحالی کے سفر کا آغاز کرنا ہو گا، کب تک قرضے لیتے رہیں گے۔

شہباز شریف نے کہا کہ ماضی کی حکومت کی سنگین غفلت کی وجہ سے کشکول اٹھانا پڑا، اگر آئندہ موقع ملا تو ملک میں زرعی انقلاب لائیں گے، غربت اور بے روزگاری کا خاتمہ کریں گے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا