ٹرائل کورٹ نے جو کیا غلط کیا ہم ایسا نہیں کرینگے ،چیف جسٹس عامر فاروق

0
319

اسلام آباد(طلوع نیوز) چیف جسٹس اسلام آبادہائیکورٹ عامر فاروق نےتوشہ خانہ کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے کہ سزا معطلی کی درخواست اب کروشل سٹیج پر ہے، 15 سے 20 منٹ میں دلائل مکمل ہوجانے تھے، جمعہ کو ڈی بی نہیں تھی، ہم کیس کو پیر تک ملتوی کرسکتے تھے مگر نہیں کیا، ہم بھی ٹرائل کورٹ والا کام کر سکتے ہیں مگر ایسا نہیں کریں گے، ٹرائل کورٹ نے جو کیا وہ غلط کیا، ہم اس کو پیر تک ملتوی کرتے ہیں اور اگر کوئی نا بھی آیا تو فیصلہ کردیں گے۔تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ نے توشہ خانہ کیس میں گرفتاری کے بعد اٹک جیل میں قید چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کی سزا کے خلاف دائر درخواست پر سماعت پیر تک ملتوی کردی۔سابق وزیراعظم کی درخواست پر چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ عامر فاروق اور جسٹس طارق محمود جہانگیری پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے سماعت کی۔چیرمین پی ٹی آئی کی جانب سے وکیل سردار لطیف کھوسہ، سلمان اکرم راجا، بابر اعوان ، بیرسٹر گوہر، شعیب شاہین و دیگر عدالت پیش ہوئے جب کہ چیرمین پی ٹی آئی کی ہمشیرہ علیمہ خان اور عظمیٰ خان بھی کمرہ عدالت موجود تھیں۔آج الیکشن کمیشن آف پاکستان کے وکیل ایڈووکیٹ امجد پرویز کی جانب سے اپنے دلائل مکمل کرنے کی توقع تھی، تاہم وہ ’انتہائی بیمار‘ ہونے کی وجہ سے عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔معاون وکیل نے بتایا کہ امجد پرویز کی طبیعت انتہائی خراب ہیں، اسی لیے میں پیش ہورہا ہوں، چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ضمانت کا معاملہ چل رہا ہے، یہ غلط بات ہے۔معاون وکیل امجد پرویز نے کہا کہ ایسے حالاتِ تو کسی کے ساتھ بھی ہوسکتے ہیں ، لطیف کھوسہ نے کہا کہ جی نہیں ، ایسا کسی کے ساتھ نہیں ہوسکتا، میری کل طبیعت خراب تھی لیکن میں آیا، چیف جسٹس نے کہا کہ یہ انتہائی غلط اقدام ہیں، مجموعی طور پر دس منٹ کے دلائل دینے ہیں، لطیف کھوسہ نے کہا کہ یہ بھی سینئر وکیل ہیں اور وکالت نامہ بھی ہے، الیکشن کمیشن کے اپنے وکلا موجود ہیں۔لطیف کھوسہ نے چیف جسٹس سے مکالمہ کیا کہ ہم نے صرف معاونت کرنی ہے باقی آپ اللہ کو جوابدہ ہیں، ایک شخص بیس دنوں سے اندر پڑا ہے۔عدالت نے کہا کہ جمعہ کو ڈویژن بینچ نہیں ہوتا، ہم صرف اس کیس کے لیے سماعت رکھی، آپ نے جو کرنا ہے کریں، پھر میں آپ کی عدالت میں نہیں آؤں گا۔لطیف کھوسہ نے چیف جسٹس سے مکالمہ کیا کہ آپ سزا معطلی کے لیے تیار ہی نہیں، زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہیں، یہ ایک جیل میں پڑے شخص کی زندگی کی تیں دن مانگ رہے ہیں۔لطیف کھوسہ نے چیف جسٹس سے مکالمہ کیا کہ خدارا اس ادارے کو ایسا نہ بنائے کہ آپ کا ماتحت آپ کی بات نہ بنائے، چیف جسٹس نے کہا کہ ٹرائل کورٹ نے جو کیا غلط کیا،لطیف کھوسہ نے کہا کہ سپریم کورٹ کہہ چکی ہے کہ اس کیس میں سقم موجود ہیں، آپ نے جو کرنا ہے کریں جو فیصلہ آپ نے کرنا ہے کریں۔امجد پرویز کے معاون وکیل نے عدالت سے کہا کہ پچھلے 8 ماہ سے ہم نے التوا نہیں مانگا، ڈاکٹر نے بیڈ ریسٹ تجویز کیا اور میرا وکالت نامہ اس کیس میں نہیں۔اس پر جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ سزا معطلی کی درخواست اب کروشل سٹیج پر ہے، 15 سے 20 منٹ میں دلائل مکمل ہوجانے تھے، جمعہ کو ڈی بی نہیں تھی، ہم کیس کو پیر تک ملتوی کرسکتے تھے مگر نہیں کیا، ہم بھی ٹرائل کورٹ والا کام کر سکتے ہیں مگر ایسا نہیں کریں گے، ٹرائل کورٹ نے جو کیا وہ غلط کیا، ہم اس کو پیر تک ملتوی کرتے ہیں اور اگر کوئی نا بھی آیا تو فیصلہ کردیں گے۔اس کے ساتھ ہی اسلام آباد ہائی کورٹ نے چیئرمین پی ٹی آئی کی سزا معطلی کے لیے دائر درخواست پر سماعت پیر تک ملتوی کردی۔سماعت ختم ہونے کے بعد سردار لطیف کھوسہ دیگر وکلا کے ہمراہ اسلام آباد ہائی کورٹ کی لفٹ میں پھنس گئے، ان کی معاون وکیل سوزین جہاں نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ 15 منٹ سے کھوسہ لفٹ کے اندر بند ہیں، خان صاحب کو تو اندر بند رکھا ہے اب وکلاء کو بھی بند کردیا ہے، 20 لوگ لطیف کھوسہ کے ساتھ ہیں، اندر پنکھا بھی موجود نہیں۔اس موقع پر موجود وکلا نے اظہار تشوشی کیا کہ لطیف کھوسہ کی عمر 70 سال سے زائد ہے، لفٹ میں پنکھا بھی موجود نہیں ہے۔گزشتہ روز دوران سماعت چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے تھے کہ یہ ڈویژن بینچ، ٹرائل کورٹ اور سپریم کورٹ کے درمیان سینڈوچ بن چکا ہے۔واضح رہے کہ 5 اگست کو اسلام آباد کی ایک ٹرائل کورٹ نے عمران خان کو سرکاری تحائف کی تفصیلات چھپانے سے متعلق کیس میں کرپشن کا مجرم قرار دیتے ہوئے 3 سال قید کی سزا سنائی تھی، فیصلہ آنے کے فوراً بعد انہیں پنجاب پولیس نے لاہور میں واقع زمان پارک میں ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کر لیا تھا۔اس کے بعد عمران خان نے توشہ خانہ کیس میں ٹرائل کورٹ کا فیصلہ خلاف قانون قرار دے کر کالعدم قرار دینے کی استدعا کی تھی اور درخواست کی تھی کہ مرکزی اپیل پر فیصلے تک سزا معطل کرکے رہائی کا حکم جاری کیا جائے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا