صدر مملکت نےعام انتخابات کی تاریخ دے دی

0
158

اسلام آباد(طلوع نیوز)الیکشن کمیشن آف پاکستان اور نگراں سیٹ اپ کے وزراءِ قانون کی مخالفت کے باوجود صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے ملک میں عام انتخابات کے انعقاد کی تاریخ کا اعلان کر دیا۔

صدرِ مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے چيف الیکشن کمشنر کو خط لکھا ہے جس میں 6 نومبر کو الیکشن کرانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔بدھ کو نگران وفاقی وزیر قانون و انصاف احمد عرفان اسلم کی زیرصدارت اجلاس ہوا تھا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ انتخابات کی تاریخ کے اعلان کا واحد اختیارالیکشن کمیشن کا ہے۔

صدر مملکت کی جانب سے بھیجے گئے خط میں لکھا گیا کہ 9 اگست کو وزیراعظم کی سمری پر قومی اسمبلی تحلیل کی گئی، جس کے بعد انتخابات 89ویں دن یعنی 6 نومبر کو ہونے چاہئیں۔

خط میں لکھا گیا کہ صدر کا اختیار ہے کہ 90 دن میں انتخابات کی تاریخ مقرر کرے۔صدر مملکت نے لکھا کہ چیف الیکشن کمشنر کو ملاقات کیلئے مدعو کیا گیا، چیف الیکشن کمشنر نے جواب میں برعکس مؤقف اختیار کیا۔

خط کے مطابق مردم شماری کی اشاعت کے بعد حلقہ بندیوں کا عمل جاری ہے، آرٹیکل51 فائیو الیکشن ایکٹ کے سیکشن 17 کے تحت لازمی شرط ہے، وفاقی وزارت قانون بھی الیکشن کمیشن جیسی رائے کی حامل ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ دو دن سے قیاس آرئیاں جاری تھیں کہ صدر جلد ہی انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرسکتے ہیں، اس کیلئے انہوں نے کچھ ملاقاتیں اور مشاورتیں بھی کی تھیں جن میں انہیں تجویز دی گئی تھی کہ وہ تاریخ کا اعلان نہ کریں۔

خیال رہے کہ صدر کو آئین کے آرٹیکل 48 کے تحت انتخابات کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ تاہم پچھلی حکومت نے الیکشن ایکٹ میں ترمیم کرتے ہوئے اکیلے الیکشن کمیشن کو تاریخ کا اعلان کرنے کا اختیار دے دیا۔

صدر علوی نے حال ہی میں چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کو انتخابات پر مشاورت کے لیے مدعو کیا تھا۔تاہم، چیف الیکشمن کمشنر نے شائستگی سے جواب دیا کہ چونکہ اسمبلیاں ان کی مدت ختم ہونے سے پہلے ہی تحلیل ہو چکی تھیں، اس لیے تاریخ کا اعلان کرنے کا حق صرف کمیشن کے پاس ہے۔

قبل ازیں، خیبرپختونخوا اور پنجاب میں انتخابات پر تعطل کے دوران صدر علوی نے 14 مئی کو انتخابات کی تاریخ مقرر کی تھی۔تاہم حکومت نے الیکشن کمیشن کے لیے فنڈز کی کمی کا حوالہ دیتے ہوئے اس فیصلے پر کبھی عمل درآمد نہیں کیا۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا