امید ہے عوام 8 فروری کو فیصلہ سناکر خود کو مشکلات سے نجات دلوائیں گے: نواز شریف

0
266

سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ ن کے قائد میاں محمد نواز شریف کا کہناہے کہ اللہ تعالی نے مجھے جھوٹے اور بے بنیاد مقدمیمیں سرخرو کیا، عوام کا شکریہ ادا کرتاہوں کہ مجھے اپنی دعاں میں یاد رکھا،آپ کی دعاں نے مجھے بہت حوصلہ دیا، آپ سب بھی مبارکباد کے مستحق ہیں۔نوازشریف نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج ان کے دل و دماغ میں یہ سوال انگارے کی طرح سلگ رہا ہے کہ عوام کا کیا قصور تھا؟ انہیں کس جرم میں نوازشریف سے زیادہ سنگین سزائیں دی گئیں؟ ان کے گھروں کے چولہیکیوں بجھائے گئے، صحت کی سہولت سیکیوں محروم کیاگیا؟ کسی لاڈلے کو لانے کے لیے مجھے ہٹانا اور سزائیں دلوانا ضروری تھا تو پاکستان کو کس جرم کی سزا دی گئی؟ دنیا بھر کے معزز رکن پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کیوں کردیا گیا؟سابق وزیراعظم نے کہا کہ میرے شہریوں آپ نے کسی عدالت سے رجوع نہیں کرنا، آپ خود جج ہیں، امید ہے کہ آپ 8فروری کو فیصلہ سنائیں گے اور خود ہی اپنی سزاں کا خاتمہ کر کے خود کو ان سزاں سے بریت دلوائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالت نے انہیں ہر الزام سے بری کردیا ہے لیکن خوشی تب ہوگی جب عوام بری ہوں گے، جب عوام کو منہگائی سے نجات ملیگی، اصل خوشی تب ہوگی جب لوگوں کو دوائیں ملیں گی، نوجوانوں کوروزگار ملے گا، پاکستان آگے بڑھتا ہوا دکھے گا۔نواز شریف نے کہا کہ اپنیخلاف ہونے والی منظم سازش بیان کروں تو بہت وقت لگے، مجھے سسیلین مافیا اور گاڈ فادر کی گالیاں دی گئیں، نیب کو تین ریفرنس دائر کرنے کا حکم دیا گیا ، مجھے جس بینچ نے سزا سنائی اس بینچ میں شامل ایک جج مانیٹر جج بن کر بیٹھ گیا، نیب کو تین ریفرنس دائر کرنے کا حکم دیا گیا ،اس شرمناک کھیل کے سارے چہرے بے نقاب ہو چکے ، وہاں وہاں سے گواہیاں آرہی ہیں جہاں سے گمان بھی نہیں تھا۔سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ میں نے اپنا معاملہ اللہ پر چھوڑ دیا تھا، آج مسائل کا لمبا سلسلہ نظر آتاہے،طویل عرصہ جیل میں رہا ، گالیاں کھائیں، کردار کشی ہوئی، میں اپنے والد محترم کی میت کو کندھا نہ دے سکا،والدہ کو قبر میں نہ اتار سکا، اپنی اہلیہ کے ساتھ وقت نہ گزار سکا جبکہ وہ اس دنیا سیرخصت ہونی والی تھیں، اپنےآپ کو پیچھے لے جاسکتا ہوں نہ بچھڑنے والوں کو واپس لاسکتا ہوں۔نوازشریف نے کہا کہ میں مسلسل 6 سال سے یہ سوچتا رہا کہ مجھ سے دشمنی کر نیوالوں نے ملک کو کیوں نشانہ بنایا، ملک کو کیوں معاشی تباہی میں دھکیل دیا گیا جو ہمارے دور میں 6.1 فیصد شرح سے ترقی کر رہا تھا، ہم نے آئی ایم ایف سے چھٹکارا حاصل کیا،لیکن ملک کو دوبارہ دھکیل دیا گیا۔انہوں نے سوال کیے کہ آج پاکستان میں سرمایہ کاری کیوں رک گئی؟، پاکستان کو پھر کیوں دہشت گردی کا گڑھ بنا دیاگیا؟،جہاں ہم نے دہشتگردی کو کچل دیا تھا، روپے کی قدر کیوں مٹی میں ملا دی گئی؟ ، جو خطے میں سب سے مضبوط تھی، پاکستان کو کیوں تنہا کر دیا گیا؟ جو عالمی برادری کا معزز رکن تھا، کیوں تین اور چار فیصد کی مہنگائی کو چالیس فیصد تک پہنچا دیا گیا؟، جو روٹی ہمارے دور میں 5 روپے کی مل رہی تھی،کس نے 20 اور 25 روپے تک پہنچا دی؟

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا