وفاقی کابینہ نے 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری دے دی، بل آج سینیٹ میں پیش ہوگا

0
1262

وزیراعظم شہباز شریف کی صدارت میں وفاقی کابینہ نے خصوصی اجلاس کے دوران 27ویں آئینی ترمیم کے مسودے کی منظوری دے دی۔ وزیراعظم نے اجلاس کی صدارت باکو سے ویڈیو لنک کے ذریعے کی، جبکہ وفاقی وزراء خواجہ آصف، بلال اظہر کیانی، رانا تنویر، اورنگزیب کھچی، رانا مبشر، عون چودھری، ڈاکٹر شذرہ منصب، ریاض حسین پیرزادہ، قیصر احمد شیخ اور ملک رشید احمد اجلاس میں شریک ہوئے۔ اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان بھی وزیراعظم ہاؤس میں موجود تھے۔

اجلاس میں وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے 27ویں آئینی ترمیم کے مسودے پر تفصیلی بریفنگ دی۔ اس دوران پیپلز پارٹی کی تجاویز کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ آئینی ترمیم کا بل آج سینیٹ میں پیش کیا جائے گا، جس کے بعد اسے قائمہ کمیٹی کے سپرد کیا جائے گا۔ ان کے مطابق سینیٹ سیکرٹریٹ نے سپلمنٹری ایجنڈا بھی تیار کرلیا ہے۔

اعظم نذیر تارڑ نے بتایا کہ ترمیمی بل 48 شقوں پر مشتمل ہے، جس میں ’’چارٹر آف ڈیموکریسی‘‘ کے تحت آئینی عدالت کے قیام کی تجویز بھی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ججز کے حالیہ تبادلوں پر اعتراضات کے بعد بل میں یہ تجویز دی گئی ہے کہ ججز کے ٹرانسفر کا اختیار جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے سپرد کیا جائے۔

وزیر قانون کے مطابق وزیراعظم نے بل پر اتحادی جماعتوں سے مشاورت مکمل کرلی ہے اور منظوری کے عمل میں تمام اتحادی حکومت کے ساتھ کھڑی ہوں گی۔ قانون و انصاف کی مشترکہ قائمہ کمیٹی تمام پارٹیوں کی رائے لے گی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی نے ترمیم سے متعلق حکومتی تجاویز میں سے 8 میں سے 3 نکات کی حمایت کی ہے، جن میں کمانڈ آف آرمڈ فورسز، آئینی عدالتوں کا قیام اور ججز کے تبادلوں سے متعلق شقیں شامل ہیں۔ تاہم این ایف سی ایوارڈ، چیف الیکشن کمشنر کی تقرری، ایگزیکٹو مجسٹریٹس کے عدالتی اختیارات، بیوروکریٹس کی دہری شہریت اور بعض وزارتوں کی وفاق کو واپسی پر اتفاق نہیں ہو سکا۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا