وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ ممکنہ سیلاب سے نمٹنے کے لیے سندھ حکومت 8 لاکھ کیوسک تک کے پانی کے ریلے کی پلاننگ کر رہی ہے۔ پانچند میں سیلابی ریلا 7 لاکھ کیوسک تک جانے کا امکان ہے جبکہ تونسہ سے 2 لاکھ 17 ہزار کیوسک پانی دریائے سندھ میں آئے گا۔ 9 ستمبر کو گڈو بیراج پر پانی عروج پر ہوگا۔
مراد علی شاہ نے بتایا کہ متاثرہ اضلاع سے لوگ پہلے ہی محفوظ مقامات پر منتقل ہوچکے ہیں اور سیلاب متاثرین کی امداد ہر صورت یقینی بنائی جا رہی ہے۔ متاثرہ علاقوں میں ریلیف کیمپس قائم کیے گئے ہیں جبکہ ادویات اور خوراک کی فراہمی جاری ہے۔ سندھ میں بارش کی پیش گوئی کے پیش نظر تمام محکمے اور وزراء متحرک اور فعال ہیں، اور چیف سیکرٹری آفس میں رین اینڈ فلڈ ایمرجنسی سینٹر قائم کیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ نے اربن فلڈنگ کے حوالے سے کہا کہ اسے مکمل روکنا ممکن نہیں، لیکن پانی کو جلد نکالنا اصل مقصد ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس مرتبہ بارش کا پانی چار سے پانچ گھنٹے سے زیادہ کھڑا نہیں ہونے دیا گیا۔ ناصر شاہ، مکیش چاؤلہ، جام دھاریجو، محمد علی ملکانی اور دیگر صوبائی اسمبلی کے نمائندے گراؤنڈ پر موجود ہیں، اور تین لاکھ چوبیس افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔






