سوشل میڈیا پر پابندی کیخلاف ہنگامے پھوٹ پڑے؛ 14 مظاہرین ہلاک؛ کرفیو نافذ

0
136

نیپال میں سوشل میڈیا پر پابندی کے خلاف نوجوان بڑے پیمانے پر سڑکوں پر نکل آئے، جس کے نتیجے میں احتجاج تشدد کی شکل اختیار کر گیا۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق “جنریشن زی” کی قیادت میں مظاہرہ دارالحکومت کھٹمنڈو کے مائتیگھرا سے شروع ہوا، جس میں ہزاروں اسکول اور کالج کے طلبہ شامل ہوئے۔ نوجوانوں نے ٹیکس کے حساب کتاب نہ ہونے اور بڑھتی ہوئی کرپشن کے خلاف نعرے بازی کی اور بدعنوان حکومت سے استعفے کا مطالبہ کیا۔

احتجاج کے دوران بعض مظاہرین نے پولیس کی رکاوٹیں توڑ کر پارلیمنٹ میں داخل ہونے کی کوشش کی، جس پر پولیس نے آنسو گیس، واٹر کینن اور ربڑ کی گولیاں استعمال کیں۔ جھڑپوں میں 14 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے، جنہیں مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا گیا، کچھ کی حالت نازک بتائی گئی۔

نیپال حکومت نے فیس بک، واٹس ایپ، انسٹاگرام، لنکڈ اِن اور یوٹیوب سمیت 26 بڑی سوشل میڈیا ویب سائٹس پر پابندی عائد کی ہے۔ حکومتی نوٹیفکیشن کے مطابق پلیٹ فارمز کو 3 ستمبر تک مقامی نمائندہ مقرر کرنے کی ہدایت تھی، تاہم کئی ویب سائٹس نے احکامات کی تعمیل نہ کی، جس پر ان پر پابندی لگا دی گئی۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا