نیو یارک میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں قطر کے وزیراعظم محمد بن عبدالرحمان الثانی نے اسرائیل پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ دوحہ پر اسرائیلی فضائی حملہ نہ صرف جانی و مالی نقصان کا باعث بنا بلکہ یہ اقدام براہِ راست سفارتکاری کی توہین اور غزہ میں امن قائم کرنے کی عالمی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہے۔
قطری وزیراعظم کا کہنا تھا کہ یہ حملہ حماس رہنماؤں کو نشانہ بنانے کی سازش تھی، مگر دراصل اس نے جنگ بندی کی ہر امید کو مزید کمزور کردیا۔ اس کے باوجود قطر اپنا ثالثی اور انسانی کردار جاری رکھے گا اور خونریزی روکنے کے لیے دنیا بھر میں اپنی سفارتی کوششیں تیز کرے گا۔
اس سے قبل ایک امریکی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں بھی انہوں نے واضح کیا تھا کہ اسرائیلی کارروائی کے نتیجے میں یرغمالیوں کی رہائی کی ساری امیدیں دم توڑ چکی ہیں اور اب ان کی زندگیاں مزید خطرے میں ہیں۔
یاد رہے کہ 9 ستمبر کو اسرائیلی فضائی حملے میں خلیل الحیہ کے بیٹے سمیت 6 افراد شہید ہوئے تھے، تاہم حماس کی مرکزی قیادت اس حملے میں محفوظ رہی۔






