چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کی ایمان مزاری سے متعلق ریمارکس پر وضاحت

0
132

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سردار سرفراز ڈوگر نے ایمان مزاری سے متعلق اپنے ریمارکس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی گفتگو کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا، جس کے نتیجے میں غلط فہمی پیدا ہوئی۔

ایک مقدمے کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ ایمان مزاری ان کے لیے بیٹیوں جیسی حیثیت رکھتی ہیں اور وہ انہیں صرف بطور جج اور بڑے ہونے کے ناطے سمجھا رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تاثر بالکل درست نہیں کہ انہوں نے کسی قسم کی دھمکی دی۔

چیف جسٹس کا مزید کہنا تھا کہ ان کا اصل مؤقف یہ تھا کہ عدالتی فیصلوں سے اختلاف کیا جا سکتا ہے لیکن ذاتیات پر بات نہیں ہونی چاہیے۔ “میں نے یہ نہیں کہا کہ میں پکڑ لوں گا، یہ تاثر غلط طور پر پھیلایا گیا ہے،” انہوں نے وضاحت کی۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایک موقع پر وکیل ہادی صاحب کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ اگر حکم کی تعمیل نہ ہو تو انہیں پکڑ کر لے جاؤ، ورنہ توہین عدالت کی کارروائی ہوگی۔ تاہم ایمان مزاری جیسے نوجوان کیرئیر پر ایسی کارروائی کے منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں، اسی لیے وہ سمجھانے کی کوشش کر رہے تھے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ سماعت کے دوران ایمان مزاری بار بار استفسار کر رہی تھیں کہ کیا اس کورٹ کے اپنے بنیادی حقوق نہیں ہیں؟

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا