حرام شراب فروشی کے دھندے سے کروڑوں ماہانہ کما نے والے شاہکاربے نقاب

0
312

اسلام آباد(تحقیقاتی رپورٹ نعمان حیدر)ایکسائزاینڈٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ اسلام آبادکے کرپٹ اوربدعنوان افسران واہلکارمقامی لائسنس ہولڈرزہوٹلزکیساتھ شراب کادھندہ کرنے لگے۔مصدقہ دستاویزات کیمطابق اسلام آبادمیں پرمٹ ہولڈرزکی تعداد سے کئی گنازیادہ شراب کی فروختگی کاانکشاف ہواہے۔ شراب کے اس غیرقانونی دھندھے میں نہ صرف قوانین کی خلاف ورزی ہوتی رہی بلکہ حقائق کوبھی چھپایاجاتارہا۔اس حوالے سے مختلف قانونی فورمزپروفاقی دارالحکومت میں غیرمسلموں کے نام پرجاری کئے جانے والے پرمٹس کی تعدادکے حوالے سے جھوٹ بولے گئے اور جاری کئے گئے کل پرمٹس کی تعدادکے اعدادوشمار میں کئی تضاد سامنے آئے ہیں۔ پاکستان میں شراب کی فروخت کے حوالے سے قوانین کیمطابق صرف غیرمسلم پرمٹ حاصل کرسکتے ہیں جبکہ محکمہ ایکسائزکے افسران اورملازمین ایل۔ٹولائسنس ہولڈرزکیساتھ ملکر مفت خوری کررہے ہیں اورشراب کے اس غیرقانونی دھندھے میں غیرمسلموں پرمٹ ہولڈرزسے بھی کئی گنازیادہ شراب غیرقانونی طورپرمنگوارہے ہیں۔حرام شراب فروشی کے اس دھندھے میں ماہانہ بنیادوں پرکروڑوں روپے کمائے جارہے ہیں

جبکہ سالانہ یہ رقم اربوں روپے میں بنتی ہے۔اس غیرقانونی دھندھے میں ڈائریکٹرایکسائز،ای۔ٹی۔اوسمیت متعلقہ انسپکٹرزاورہوٹلزبارزکاعملہ بھی مبینہ طورپر پارٹنرہے۔سوال یہ بھی پیداہوتاہے کہ ایک توممنوعہ حدآرڈینینس شراب کی غیرقانونی فروخت کوروکتاہے پھرایسی صورتحال میں جب ایکسائزکے افسران خود زائدشراب منگوانے میں ملوث ہوں توکیاان ہوٹلزکی بارزکے خلاف کاروائی کرسکیں گے جوکہ ان کی قانونی ذمہ داری ہے جوکئی سالوں سے ادانہیں کی جارہی۔ایکسائزافسران اوربارزکاعملہ گینگ اپ ہے اورجعلی کاروائی کی جاتی ہے یہی وجہ ہے کہ آج تک بیسٹ ویسٹرن کے خلاف کوئی فیصلہ کن کاروائی سامنے نہیں آسکی جہاں سرے عام ہرروزشراب بکتی ہے۔انسپکٹرزڈیوٹی دینے کی بجائے غائب ہوتے ہیں اورپرمٹس کااندراج نہیں کیاجاتا۔جاری کئے گئے پرمٹس اوربیچی گئی شراب کے رجسٹرزاورشراب کی خریدوفروخت کے تمام مراحل کافرانزک آڈٹ وقت کی اہم ضرورت ہے

تاکہ پتہ چل سکے غیرمسلموں سے زیادہ شراب پینے میں ایکسائزکے کون کونسے افسران اوران کے سہولت کارشامل ہیں۔ اسلام آباد میں لائسنس ہولڈرزہوٹلزکیساتھ ملی بھگت سے شراب فروخت کادھندہ عروج پر ہے ہر مہینے ایک محتاط اندازے کے مطابق آٹھ کروڑ جیبوں میں ڈالے جارہے ہیں ۔وفاقی دارالحکومت اسلام آبادمیں چارہوٹلوں کوشراب بیچنے کالائسنس جاری کیاگیاہے جس میں میریٹ،سرینا،بیسٹ ویسٹرن اورموون پک شامل ہیں۔ممنوعہ حد آرڈیننس 1979ئ کے تحت غیرمسلموں کوشراب کے پرمٹس پی۔آر۔ون اورمخصوص تقریبات کے موقع پرپی۔آر۔ٹو جاری کئے جاتے ہیں۔سال میں دومرتبہ جاری ہونے والے پرمٹ پرچھ یونٹس دیے جاتے ہیں۔سال 2024ئ میں جولائی تادسمبر کے دورانیے میں 2200پرمٹس جاری کئے گئے۔حیران کن طورپردسمبر2024ئ میں اسلام آبادکے ایل۔ٹولائسنس ہولڈرزہوٹلزنے صرف مری بروری راولپنڈی سے شراب کی جوخریداری کی وہ 13,700پرمٹس کے برابر تھی۔یہ تعدادجاری کئے گئے پرمٹس کی تعدادکے چھ گناسے بھی زیادہ ہے۔سوال یہ پیداہوتاہے کہ اتنے بڑے پیمانے پرشراب کن مقاصد کے لئے منگوائی گئی

جبکہ ایکٹوپرمرمٹس کی تعدادانتہائی کم ہے۔کیاکوئی ہوٹل آزادانہ طورپرشراب بیچنے کے لئے خریدسکتاہے؟پورے ملک سے ایکسائزاینڈٹٰیکسیشن افسرہوٹل کی ڈیمانڈپرکورنگ لیٹرکے طورپرسائن اورسٹیمپ کرتاہے۔اس سے قبل سٹل ہیڈڈیوٹی اوروینڈفیس اداکی جاتی ہے۔اسلام آبادمیں PMFLشراب کی سٹل ہیڈڈیوٹی 600روپے فی ایل۔پی گیلن ہے جبکہ بئیرکی سٹل ہیڈڈیوٹی 12روپے فی لیٹرہے جبکہ شراب کی وینڈفیس 1350روپے جبکہ بئیرپروینڈفیس 65روپے ہے۔مقامی لائسنس یافتہ ہوٹلز اپنی ڈیمانڈکے مطابق ایکسائزڈیوٹی سمیت دیگرواجبات بینک میں اداکرنے کے بعد ایکسائزکے دفتربھیجتے ہیں تاکہ فیکٹری سے منگوانے سے قبل اجازت لی جاسکے۔ہوناتویہ چاہیے غیرمسلموں کوجتنے پرمٹس جاری کئے گئے ہیں اسی کے مطابق شراب منگوائی جائے لیکن اس کے برعکس ہوٹلزکوکئی گنازیادہ شراب منگوانے کی اجازت دینانہ صرف غیرقانونی ہے بلکہ اختیارات سے تجاوزکرنے کے مترادف ہے۔ایسی صورتحال میں ممنوعہ قوانین پرکون عملدرآمد کروائے گاجب ایکسائزنے خودہوٹلزکوکئی گنااضافی مقدارمیں شراب منگوانے کی غیرقانونی شراب منگوانے کی اجازت دے رکھی ہوجس کامقصد صرف اورصرف بلیک میں شراب فروخت کرناہے۔ایک اندازے کے مطابق اسلام آبادمیں شراب کے ساٹھ ہزارسے زائدیونٹس اضافی منگوائے جاتے ہیں

جن پر ہوٹلزبارزکے ملازمین کم ازکم ایک ہزارسے دوہزاراضافی وصول کرتے ہیں۔ذرائع کاکہناہے یہ تمام اضافی یونٹس بلیک میں بیچے جاتے ہیں اوران سے حاصل شدہ انکم مبینہ طور پرایکسائزکے افسران اورملازمین ہوٹلزبارزکے ملازمین کیساتھ ملکر بانٹ لیتے ہیں۔کیاڈائریکٹربلال اعظم کی ذمہ داری نہیں کہ جاری شدہ پرمٹس کیمطابق ہوٹلزکوشراب منگوانے کی اجازت دے۔اسی طرح ایکسائزاینڈٹیکسیشن افسر کی یہ بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ ڈیمانڈاینڈسپلائی پرنظررکھے لیکن اس نے بھی نوٹوں کی چمک دیکھ کرآنکھیں بندکررکھی ہیں۔اسی طرح ان ہوٹلزمیں تعینات انسپکٹرزبھی اس لوٹ مارمیں برابرکے شریک ہیں۔ذرائع کاکہناہے کہ بارمنیجرزاپنے فرنٹ غیرمسلم پرمٹ ہولڈرزپرہزاروں بوتلیں ماہانہ سپلائی کرتے ہیں اورمہینے کے آخرمیں پرمٹ کی دستاویزات پوری کرلی جاتی ہیں تاکہ اگرپولیس روکے توپرمٹ دکھایاجاسکے۔ میریٹ،سیرینااورموون پک ہوٹلزمیں مجموعی طورپر28,800بوتلیں منگوائی گئیں

لیکن اکیلے بیسٹ ویسٹرن ہوٹل نے ایک لاکھ بڑی شراب کی بوتلیں منگواکرفروخت کیں ۔ایکسائزاسلام آبادنے اگست 2025میں بیسٹ ویسٹرن ہوٹل کوایک لاکھ بڑی شراب کی بوتلیں بیچنے کی اجازت دی جبکہ بیس ہزارلیٹربئیرمنگوائی گئی۔اس کے برعکس میریٹ،سیرینااورموون پک ہوٹلزمیں مجموعی طورپر28,800بوتلیں منگوائی گئیں۔ جولائی سے دسمبر24تک ہوٹلزکو زائد خریداری کی اجازت محکمہ ہذا کے حکام نے کیوں دی ؟اس حوالہ سے ایکسائزڈیپارٹمنٹ نے پاکستان انفارمیشن کمیشن کوبھی گمراہ کیا ہے ۔ذرائع کیمطابق تمام اضافی یونٹس بلیک میں بیچے جاتے ہیں اوران سے حاصل شدہ انکم مبینہ طور پرایکسائزکے افسران اورملازمین ہوٹلزبارزکے ملازمین کیساتھ ملکر بانٹ لیتے ہیں ۔سوال یہ بھی پیداہوتاہے

کہ بیسٹ ویسٹرن کوکس قانون کے تحت زیادہ بیچنے کی اجازت دے رکھی ہے۔ فئیربزنس کے ریاستی قانون کے تحت تمام ہوٹلزکوپرمٹس کے بلحاظ برابر کاکوٹہ الاٹ کیاجائے تاکہ چوربازاری کاخاتمہ ہوسکے۔ڈپٹی کمشنر اسلام آبادعرفان نوازمیمن جو ڈی۔جی ایکسائزبھی ہیں کوچاہیے کہ ممنوعہ حد آرڈیننس کی خلاف ورزی میں ملوث ایکسائزاینڈٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ اسلام آبادکے کرپٹ افسران وملازمین سمیت شراب کے غیرقانونی دھندھے میں ملوث ہوٹلزکے خلاف فوری ایکشن لیاجائے اوران کے لائسنس منسوخ کئے جائیں اوراس حوالے سے ایک شفاف انکوائری ایف۔آئی۔اے سے کروائی جائے تاکہ اصل مجرمان کوقانون کے کٹہرے میں لایاجاسکے۔وزیرداخلہ محسن نقوی بھی اس حوالے سے انکوائری کروائیں کیونکہ چندروزقبل ممبرنیشنل اسمبلی نذیربگھیونے بھی وفاقی دارالحکومت اسلام آبادمیں شراب کے لائسنسزبارے سوال اٹھایاتھاجس پروزارت داخلہ نے تفصیلی جواب فراہم نہیں کیابلکہ انتہائی عام انفارمیشن دی گئی

حالانکہ اسلام آبادمیں بڑے پیمانے پرغیرملکی شراب بھی فروخت کی جارہی ہے ۔دسمبر24میں,700 14پرمٹ ہولڈرزکی شراب ہوٹلزنے خریدی جس کا سب سے بڑاخریداربیسٹ ویسٹرن تھا۔اعدادوشمار کے مطابق ہر ماہ دس ہزارسے زائد افرادکے پرمٹس کاکوٹہ شراب کوبلیک میں بیچنے کے لئے استعمال ہوتاہے جس سے ماہانہ سات سے آٹھ کروڑصرف بلیک میں بیسٹ ویسٹرن انتظامیہ،منیجراورایکسائزکے متعلقہ افسران وملازمین ملی بھگت سے اکٹھا کرتے ہیں۔سوال یہ پیداہوتاہے کہ اسلام آبادمیں پرمٹس کے مطابق شراب کیوں نہیں منگوائی جاتی؟ایکسائز،ٹیکسیشن اینڈنارکوٹکس کنٹرول،پنجاب راولپنڈی کے اطلاعات کی فراہمی کے قانون کے تحت جوڈیٹافراہم کیااسکے مطابق اوسطا 12000-15000غیرمسلم پرمٹ ہولڈرزکی وینڈفیس اورسٹل ہیڈچارجزاداکئے جاتے ہیں جبکہ ایکسائزڈیپارٹمنٹ اسلام آبادنے اطلاعات کی فراہمی کے قانون کے تحت جون سے دسمبر2024کے دورانیے میں 2200ایکٹوپرمٹس کو تسلیم کیا۔

اسلام آبادایکسائزکے ایکٹوپرمٹ ہولڈرزکی تعداد2200ہے سوال پیدا ہوتا ہے 14 ہزار 3 سو پرمٹ کے حساب سے شراب کی خرید کیوں کی اس میں کون کون ملوث ہے ؟ایکسائزراولپنڈی کیمطابق دسمبر 2024میں 7200کارٹن شراب کے منگوائے جبکہ اسی مہینے بئیرکے 2000کارٹن منگوائے گئے۔ یوں 14,700ایکٹوپرمٹ ہولڈرزکے کئے شراب خریدی گئی جبکہ ایکسائزڈیپارٹمنٹ نے 2200ایکٹوپرمٹس کاریکارڈظاہرکیایوں قانونی طورپراطلاعات کی فراہمی کے قانون کے تحت پاکستان انفارمیشن کمیشن کوبھی گمراہ کیاگیا۔اگست 2025میں بیسٹ ویسٹرن،سرینہ،میریٹ اورموون پک ہوٹلزنے ایکسائزاینڈٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ اسلام آبادکی ملی بھگت سے شراب کے 6400کارٹن خریدے جبکہ بئیرکے 3000کارٹن خریدے گئے۔ایک کارٹن میں 12یونٹس ہوتے ہیں۔

اسلام آبادمیں ایک پرمٹ پر6یونٹس کاپرمٹ بناکردیاجاتاہے۔ایک کارٹن سے دوپرمٹ ہولڈرزکوشراب دی جاسکتی ہے جبکہ بئیرکاایک کارٹن ایک یونٹ کے برابرہوتاہے۔یوں PMFLشراب کے6400کارٹنزمیں 76,800بوتلیں ہوتی ہیں جن سے 13800پرمٹ ہولڈرزغیرمسلموں کوشراب دی جاسکتی ہے جبکہ بئیر کے تین ہزارکارٹن سے500پرمٹ ہولڈز مستفید ہوسکتے ہیں یوں مجموعی طورپر14,300پرمٹ ہولڈرزکے لئے اسلام آبادکے مقامی لائسنس یافتہ ہوٹلوں نے شراب خریدی

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا