شراب کی بوتلوں کو نچانے کیلئے ہوٹلزبارزکے منیجرزاور محکمہ ایکسائیز کا عملہ گینگ اپ

0
406

اسلام آباد(تحقیقاتی رپورٹ نعمان حیدر )وفاقی دارالحکومت میں ایکسائزاینڈٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ کے کرپٹ افسران کی سرپرستی میں بیسٹ ویسٹرن سمیت دیگر ہوٹلوں میں مسیحی بھائیوں کے نام پرماہانہ ہزاروں لیٹرشراب بلیک میں بیچی جا رہی ہے۔ممنوعہ حدآرڈیننس 1979ء کے قوانین کیمطابق شراب کے کتابی ناچ سے تقریبا سالانہ ایک ارب روپے کمائے جاتے ہیں لیکن ایکسائزاینڈٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ اسلام آباد کے افسران کے کان پرجوں تک نہ رینگی۔

تفصیلات کیمطابق اسلام آبادمیں پاکستان میڈفارن لیکر(PMFL)شراب کوبڑے پیمانے پربلیک کرتے ہوئے ایکسائزڈیپارٹمنٹ اسلام آبادکے افسران نے قانون سے بالاترہوکربیسٹ ویسٹرن کیساتھ پرائیویٹ ڈیلرشپ کی طرزپرسمجھوتہ کررکھاہے اوربڑے پیمانے پرحاصل ہونے کروڑوں کی حرام کمائی پرچند افسران اورہوٹلزبارزکے منیجرزگینگ اپ ہیں۔ ذرائع کاکہناہے کہ بیسٹ ویسٹرن ہوٹل کیساتھ ایکسائزڈیپارٹمنٹ یہ دھندہ پچھلی دودہائیوں سے کررہاہے۔سوال یہ بھی پیداہوتاہے کہ ایکسائزڈیپارٹمنٹ کے افسران کوبیسٹ ویسٹرن سمیت دیگرہوٹلزکوقوانین کے برخلاف اتنی بڑی مقدارمیں شراب کی خریداری کی اجازت پرآج تک ایکشن کیوں نہیں لیاجاسکا۔

وزارت داخلہ کے اعلی افسران اورسیکرٹری ایکسائزچیف کمشنراسلام آبادسمیت ڈی۔جی ایکسائزڈپٹی کمشنراسلام آباد اس معاملہ کی انکوائری کروائیں اور اپنے آپ کو بدنامی سے بچائیں۔کون سے خفیہ ہاتھ ہیں جواس دھندھے میں ملوث ایکسائزاورہوٹلزبارزکے منیجرز کی پشت پناہی کررہے ہیں سوال یہ بھی پیداہوتاہے کہ اس کاروبارکی پشت پناہی کرنے والوں کو مبینہ طورپرماہانہ کتناحصہ جاتاہے۔ذرائع کاکہناہے کہ ایکسائزمیں کام کرنے والے ایماندارافسران ڈائریکٹربلال اعظم سمیت آصف رزاق سے سوال کرتے ہیں کہ بیسٹ ویسٹرن ہوٹل پراتنی نوازشات ہرماہ کیوں کی جاتی ہیں،

ایکسائزڈیپارٹمنٹ اسلام آباد میں اکاؤنٹنٹ اور اسسٹنٹ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفیسر آسف شاہ کا اس سارے کھیل میں کیا اہم کردار ہے اس سے پردہ اُٹھنے کو ہے کیا اصل میں کرپشن کی ماں وہ ہے جو مذکورہ ڈیپارٹمنٹ میں اس کو خاص الخاص سمجھا جاتا ہے اور اس کے پاس کونسی گیدڑ سنگھی جو اس نے اپنے سینئرز کو بھی قابو کر رکھا ہے اور کیا سب بندر بانٹ اور سیٹنگ اس کی ذمہ داری ہے

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا