اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم، جسٹس جہانگیری دوبارہ بحال

0
168

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے جسٹس طارق محمود جہانگیری کو دوبارہ کام کرنے کی اجازت دے دی۔

عدالتِ عظمیٰ نے جسٹس جہانگیری کی اپیل منظور کرتے ہوئے واضح کیا کہ کسی جج کو عبوری حکم کے ذریعے جوڈیشل ورک سے نہیں روکا جا سکتا۔

سماعت کے دوران اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے مؤقف اختیار کیا کہ جج کو عبوری آرڈر سے روکنے کا کوئی جواز نہیں، جبکہ درخواست گزار میاں داؤد نے بھی اس مؤقف سے اتفاق کیا۔

جسٹس امین الدین خان نے دورانِ سماعت براہِ راست میاں داؤد سے رائے پوچھی جس پر انہوں نے کہا کہ وہ بھی سمجھتے ہیں کہ عبوری حکم کے تحت جج کو معطل نہیں کیا جا سکتا۔

سابق اٹارنی جنرل منیر اے ملک نے وضاحت دی کہ ان سے گزشتہ سماعت میں غلط بیان منسوب کیا گیا تھا، انہوں نے یہ نہیں کہا تھا کہ جج کے خلاف کووارنٹو درخواست قابلِ سماعت ہے۔

سپریم کورٹ نے اپنے حکمنامے میں لکھا کہ اٹارنی جنرل اور فریقین کے دلائل کے مطابق جج کو عبوری حکم سے نہیں روکا جا سکتا۔ مزید یہ کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کو کووارنٹو درخواست کی سماعت میں پہلے اعتراضات پر فیصلہ کرنا ہوگا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ جسٹس طارق محمود جہانگیری کو کام سے روکنے کا ہائیکورٹ کا آرڈر کالعدم قرار دیا جاتا ہے اور ان کی اپیل منظور کی جاتی ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا