کراچی: وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ مناسب سپورٹ پرائس اور خریداری نہ ہونے کے باعث گندم کی پیداوار کم ہوئی ہے۔
آبادگاروں کے لیے گندم سپورٹ پروگرام سے متعلق اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ سندھ حکومت نے فوڈ سکیورٹی یقینی بنانے اور کاشتکاروں کی مدد کے لیے 55.8 ارب روپے کا خصوصی پیکیج تیار کیا ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ صوبے میں 25 ایکڑ تک اراضی رکھنے والے 4 لاکھ 11 ہزار 408 کاشتکاروں کو ایک ڈی اے پی اور دو یوریا بیگز فراہم کیے جائیں گے۔ مجموعی طور پر 22 لاکھ 62 ہزار 746 ڈی اے پی اور 45 لاکھ 25 ہزار 492 یوریا بیگز تقسیم کیے جائیں گے۔
اجلاس میں وزیر زراعت نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پروکیورمنٹ کمیٹی اور ڈائریکٹر جنرل زراعت کی سربراہی میں سروے ٹیمیں تشکیل دی جا چکی ہیں، جبکہ اہل کاشتکاروں کی تصدیق کے لیے خصوصی سیل بھی قائم کیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ نے ہدایت دی کہ نومبر کے دوسرے ہفتے سے کھاد کی تقسیم کا آغاز کیا جائے تاکہ بروقت کاشت ممکن ہو سکے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کا ہدف گندم کی بمپر فصل حاصل کرنا ہے، اس مقصد کے لیے آبادگاروں کو بہتر سپورٹ پرائس دی جائے گی تاکہ ان کی محنت کا پورا معاوضہ مل سکے۔






