پاکستان، سعودی عرب کے درمیان ایک اور معاہدہ طے پا گیا

0
246

اسلام آباد: پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان انسداد بدعنوانی، منی لانڈرنگ کی روک تھام اور چوری شدہ اثاثہ جات کی واپسی کے لیے ایک تاریخی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے گئے ہیں۔ معاہدے کو شفاف حکمرانی، احتساب اور قانون کی حکمرانی کے فروغ میں ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ معاہدہ 8 اور 9 اکتوبر 2025 کو جدہ، سعودی عرب میں MENA ریجن کے اثاثہ بحالی انٹرایجنسی نیٹ ورک کے افتتاحی اجلاس کے موقع پر طے پایا۔ اس موقع پر دونوں ممالک کے انسداد بدعنوانی کے اعلیٰ اداروں نے شرکت کی۔ مفاہمتی یادداشت پر دستخط نیب کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد اور سعودی نگران انسداد بدعنوانی اتھارٹی کے صدر مازن بن ابراہیم الکاموس نے کیے۔

معاہدے کا مقصد دونوں اداروں کے درمیان معلومات کے تبادلے، مشترکہ تحقیقات، اثاثہ جات کی واپسی اور قانونی معاونت کو فروغ دینا ہے۔ اس کے تحت مشترکہ تربیتی ورکشاپس، بین الاقوامی فورمز پر روابط اور انسداد بدعنوانی کی عالمی کوششوں میں فعال کردار ادا کیا جائے گا۔

نزاہہ کے صدر نے نیب کی 6.4 ٹریلین روپے کی ریکوری کو عالمی معیار کی مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان بدعنوانی کے خلاف عالمی مہم میں ایک سرگرم فریق ہے۔ چیئرمین نیب نے سعودی قیادت کے اقدامات کو سراہا اور کہا کہ حالیہ دفاعی معاہدہ دونوں ممالک کے برادرانہ تعلقات کو مزید مستحکم کرے گا۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا