سندھ میں پولیو کے پھیلاؤ کا خطرہ، 20 ہزار نئے کیسز کا امکان

0
483

کراچی: ایمرجنسی آپریشن سینٹر برائے سندھ نے خبردار کیا ہے کہ اگر انسدادِ پولیو مہم میں تسلسل برقرار نہ رہا تو آئندہ تین سالوں میں کیسز کی تعداد بیس ہزار تک پہنچ سکتی ہے۔

جناح اسپتال کراچی کے نجم الدین آڈیٹوریم میں عالمی یوم انسداد پولیو مہم کے حوالے سے تقریب منعقد ہوئی، جس میں صوبائی وزیرِ صحت و بہبودِ آبادی ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو بطورِ مہمانِ خصوصی شریک ہوئیں۔ تقریب میں سیکریٹری صحت ریحان بلوچ، عالمی ادارۂ صحت، یونیسف اور دیگر شراکت دار اداروں کے نمائندے بھی موجود تھے۔

ای او سی سندھ کے آرڈینیٹر ارشاد سوڈھر نے پولیو ورکرز کی خدمات کو فرنٹ لائن ہیرو قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم جلد پولیو فری ڈے منائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ 24 اکتوبر کو ویکسین کا دن منایا جاتا ہے اور یہ دن پولیو ورکرز کے نام ہونا چاہیے کیونکہ یہ لوگ مشکل حالات میں بچوں کو ویکسین فراہم کرتے ہیں۔

صوبائی وزیرِ صحت ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے پولیو ورکرز کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ اگر اسی طرح ہمارا ساتھ رہا تو انشاء اللہ 2026 میں سندھ کو پولیو فری بنایا جائے گا۔ انہوں نے والدین سے اپیل کی کہ بچوں کو پولیو کے قطرے بخوبی پلائیں کیونکہ بظاہر صحت مند بچہ بھی وائرَس پھیلانے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

تقریب میں پولیو سے متاثرہ ڈاکٹر اختر عباس نے بھی اپنی زندگی کی کہانی سنائی اور کہا کہ یہ دو قطرے بچوں کی صحت کے لیے بہت ضروری ہیں۔ ڈاکٹر عذرا نے جناح اسپتال کو آوٹ سورس کرنے کی افواہوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کی ڈسپنسریز میں پی پی ایچ آئی فعال طور پر کام کر رہا ہے۔

عالمی ادارۂ صحت اور یونیسف کے نمائندوں نے بھی والدین سے بار بار اپیل کی کہ وہ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے دیں تاکہ پاکستان کو جلد از جلد پولیو سے پاک کیا جا سکے۔ تقریب کے آخر میں شرکاء نے پولیو ورکرز کو خراجِ تحسین پیش کیا اور مزید عوامی شعور بیدار کرنے پر زور دیا۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا