کابینہ کی منظوری کے بعد 27 ویں آئینی ترمیم کا بل سینیٹ میں پیش،قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کے سپرد

0
444

اسلام آباد: وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد 27 ویں آئینی ترمیم کا بل سینیٹ میں پیش کر دیا گیا، جسے چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کے سپرد کر دیا۔

سینیٹ کے اجلاس کی صدارت چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے کی، جس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے 27 ویں آئینی ترمیم کا بل پیش کیا۔ وزیر قانون نے ایوان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج معمول کی کارروائی معطل کر کے بل پیش کیا جا رہا ہے اور بل کو پارلیمنٹ کی مشترکہ کمیٹی کے سپرد کیا جائے گا۔

اعظم نذیر تارڑ نے بتایا کہ کمیٹی اپنا کام کرے گی اور بل پر ابھی ووٹ نہیں ہوگا، کمیٹی میں دیگر ارکان کو بھی مدعو کیا جائے گا جو کمیٹی کے رکن نہیں ہیں، اور اپوزیشن سے بحث کا آغاز کیا جائے گا۔ چیئرمین سینیٹ نے اپوزیشن سے کہا کہ وہ کمیٹی کے اجلاس میں شریک ہوں۔

بل سے متعلق مسودے کے مطابق آرمی چیف کے لیے “چیف آف ڈیفنس فورسز” کا عہدہ تجویز کیا گیا ہے، جبکہ سپریم کورٹ سے آئینی اختیارات واپس لے کر وفاقی آئینی عدالت کے سپرد کیے جائیں گے۔ مسودے میں آئین کے آرٹیکل 42 اور 59 میں ترمیم، اور آرٹیکل 63 اے کی کلاز 5 میں لفظ “سپریم” کو “فیڈرل کانسٹیٹیوشنل” میں تبدیل کرنے کی تجویز شامل ہے۔

۔27 ویں ترمیم کے تحت وفاقی آئینی عدالت قائم ہوگی، جو آئین کی تشریح اور آئینی تنازعات کے فیصلے کرے گی۔ سپریم کورٹ کا آرٹیکل 184 ختم ہو جائے گا اور ازخود نوٹس کا اختیار ختم ہوگا۔ آئینی مقدمات اب وفاقی آئینی عدالت میں سنے جائیں گے، جبکہ سپریم کورٹ صرف اپیلوں اور عمومی مقدمات کی عدالت رہے گی۔

وفاقی آئینی عدالت میں چیف جسٹس اور چاروں صوبوں سے برابر نمائندگی ہوگی، اور چیف جسٹس کی مدت 3 سال ہوگی۔ مسودے میں سپریم کورٹ اور آئینی عدالت کے درمیان اختیارات کی تقسیم تجویز کی گئی ہے، اور آئینی عدالت کے فیصلے ملک کی تمام عدالتوں پر لازم ہوں گے۔

فوجی ڈھانچے میں تبدیلی کے تحت چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم کر کے آرمی چیف کو “چیف آف ڈیفنس فورسز” کا عہدہ دینے کی تجویز شامل ہے۔ آئینی ترمیم کے تحت فیلڈ مارشل اور دیگر اعلیٰ فوجی عہدے تاحیات درجہ حاصل کریں گے۔

ججز کی تقرری کا طریقہ کار بھی تبدیل ہوگا، جس میں جوڈیشل کمیشن میں وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس شامل ہوں گے۔ وزیرِاعظم اور صدر کو تقرری میں کلیدی کردار حاصل ہوگا، جبکہ پارلیمنٹ آئینی عدالت کے ججوں کی تعداد طے کرے گی۔

ماہرین نے ترمیم کو عدلیہ اور انتظامیہ کے اختیارات میں بڑا تغیر قرار دیا ہے، جبکہ اپوزیشن جماعتوں نے مجوزہ 27 ویں ترمیم پر شدید تحفظات ظاہر کیے ہیں۔ سیاسی حلقوں میں وفاقی آئینی عدالت کے قیام پر بحث تیز ہو گئی ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا