چیف آف ڈیفنس فورسز کا عہدہ آرمی چیف کو دینے کی تجویز، 27 ویں ترمیم کا مسودہ

0
354

اسلام آباد میں ممکنہ 27 ویں آئینی ترمیم کا مسودہ سامنے آیا ہے، جس میں سپریم کورٹ سے آئینی اختیارات واپس لے کر وفاقی آئینی عدالت کے سپرد کرنے اور آرمی چیف کے لیے “چیف آف ڈیفنس فورسز” کا عہدہ دینے کی تجویز شامل ہے۔

دنیا نیوز کو حاصل ہونے والے مسودے کے مطابق آئینی ترمیم میں آئین کے آرٹیکل 42 اور 59 میں ترمیم، اور آرٹیکل 63 اے کی کلاز 5 میں لفظ “سپریم” کو “فیڈرل کانسٹیٹیوشنل” میں تبدیل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

مجازہ مسودے کے مطابق وفاقی آئینی عدالت، آئین کی تشریح اور آئینی تنازعات کے فیصلے کرے گی۔ سپریم کورٹ کا آرٹیکل 184 ختم ہو جائے گا اور ازخود نوٹس کا اختیار ختم ہو گا، جبکہ آئینی مقدمات اب وفاقی آئینی عدالت میں سنے جائیں گے۔ سپریم کورٹ صرف اپیلوں اور عمومی مقدمات کی عدالت رہے گی۔

وفاقی آئینی عدالت میں چیف جسٹس اور چاروں صوبوں سے برابر نمائندگی ہوگی، جبکہ چیف جسٹس کی مدت 3 سال ہوگی۔ چیف جسٹس آف پاکستان کے عہدے کی حیثیت محدود ہو جائے گی اور آئینی عدالت کے فیصلے تمام عدالتوں پر لازم ہوں گے۔

مسودے میں فوجی ڈھانچے میں بھی بڑی تبدیلی تجویز کی گئی ہے، جس میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم کر کے آرمی چیف کو “چیف آف ڈیفنس فورسز” کا عہدہ دینے کی تجویز شامل ہے۔ آئینی ترمیم کے تحت فیلڈ مارشل اور دیگر اعلیٰ فوجی عہدے تاحیات درجہ حاصل کریں گے۔

مزید برآں، ججز کی تقرری کا طریقہ کار بھی تبدیل کیا جائے گا، جس میں جوڈیشل کمیشن میں وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس شامل ہوں گے، جبکہ وزیرِاعظم اور صدر کو کلیدی کردار حاصل ہوگا۔ پارلیمنٹ آئینی عدالت کے ججوں کی تعداد طے کرے گی۔

ماہرین نے اس ترمیم کو عدلیہ اور انتظامیہ کے اختیارات میں بڑا تغیر قرار دیا ہے، جبکہ اپوزیشن جماعتوں نے مجوزہ 27 ویں ترمیم پر شدید تحفظات ظاہر کیے ہیں۔ سیاسی حلقوں میں وفاقی آئینی عدالت کے قیام پر بحث تیز ہو گئی ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا