ڈگری کیس: جسٹس طارق جہانگیری کی تعیناتی غیرقانونی قرار، عہدے سے ہٹانے کا حکم

0
405

اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈگری کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے جسٹس طارق محمود جہانگیری کی بطور جج تعیناتی کو کالعدم قرار دے دیا اور وزارت قانون کو انہیں عہدے سے ڈی نوٹیفائی کرنے کا حکم دے دیا۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ سردار محمد سرفراز ڈوگر اور جسٹس محمد اعظم خان پر مشتمل ڈویژن بنچ نے قرار دیا کہ جسٹس طارق محمود جہانگیری ایڈیشنل جج اور بعد ازاں مستقل جج کی تعیناتی کے وقت قابلِ قبول ایل ایل بی کی ڈگری کے حامل نہیں تھے، اس لیے ان کی تعیناتی غیر قانونی ہے۔

عدالت کے مطابق وکیل بننے کے لیے ایل ایل بی کی ڈگری لازمی شرط ہے، جب کوئی شخص وکیل بننے کا اہل نہ ہو تو وہ جج بننے کا بھی اہل نہیں ہو سکتا۔ عدالت نے کہا کہ جسٹس طارق محمود جہانگیری جج کے عہدے پر فائز رہنے کے اہل نہیں تھے۔

سماعت کے دوران درخواست گزار میاں داؤد ایڈووکیٹ کے علاوہ جسٹس طارق جہانگیری کے وکلاء بیرسٹر صلاح الدین اور اکرم شیخ عدالت میں پیش ہوئے، تاہم جسٹس طارق جہانگیری خود عدالت میں پیش نہ ہوئے۔ عدالتی طلبی پر کراچی یونیورسٹی کے رجسٹرار عمران احمد صدیقی بھی اصل ریکارڈ کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے۔

رجسٹرار کراچی یونیورسٹی نے عدالت کو بتایا کہ یونیورسٹی نے حتمی طور پر جسٹس طارق جہانگیری کی ایل ایل بی ڈگری منسوخ کر دی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اسلامیہ لاء کالج کے مطابق طارق محمود جہانگیری ان کے طالب علم نہیں تھے، جبکہ وہ امتحان میں نقل کرتے ہوئے پکڑے گئے تھے اور ان پر تین سال کی پابندی عائد کی گئی تھی۔

عدالت کو بتایا گیا کہ پابندی کے باوجود جعلی انرولمنٹ فارم کے ذریعے امتحان دیا گیا، مختلف مراحل میں نام اور ولدیت میں تضاد پایا گیا اور فیک انرولمنٹ نمبر استعمال کیا گیا۔ اسلامیہ لاء کالج کے پاس طارق محمود جہانگیری کے طالب علم ہونے کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں تھا، جس کے بعد یونیورسٹی سنڈیکیٹ نے ڈگری منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا۔

وکلاء صفائی کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ کراچی یونیورسٹی کی کارروائی سندھ ہائیکورٹ میں معطل ہے اور اس بنیاد پر اسلام آباد ہائیکورٹ کیس کی سماعت نہیں کر سکتی، تاہم عدالت نے اس مؤقف کو مسترد کر دیا۔

دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے جسٹس طارق محمود جہانگیری کی بطور جج تعیناتی کالعدم قرار دے دی اور وزارت قانون کو فوری ڈی نوٹیفکیشن کا حکم دے دیا۔

بعد ازاں عدالت نے تین صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ بھی جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ جسٹس جہانگیری کو ڈگری ریکارڈ پیش کرنے کے لیے وافر مواقع دیے گئے، مگر وہ مطلوبہ ریکارڈ پیش کرنے میں ناکام رہے۔ عدالت کے مطابق ایسی صورت میں مزید کارروائی آگے بڑھانے کا کوئی جواز باقی نہیں رہا۔

عدالت نے حکم دیا کہ وزارت قانون اس فیصلے پر فوری عملدرآمد کرے اور جسٹس طارق محمود جہانگیری کی جانب سے دائر تمام درخواستیں ناقابلِ سماعت قرار دی جاتی ہیں۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا