خودکش حملے کا ماسٹرمائنڈ ہماری حراست میں ہے، ٹریننگ کے حوالے سے معلومات تھیں، محسن نقوی

0
374

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے انکشاف کیا ہے کہ اسلام آباد کی امام بارگاہ میں ہونے والے خودکش حملے کی منصوبہ بندی افغانستان میں کی گئی تھی، جبکہ حملے کا ماسٹر مائنڈ سیکیورٹی اداروں کی حراست میں ہے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ کل کا دن پورے پاکستان کے لیے ایک سیاہ دن تھا، اس المناک واقعے نے پوری قوم کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے اور حکومت تمام متاثرہ خاندانوں کے غم میں برابر کی شریک ہے۔

وزیر داخلہ نے بتایا کہ دھماکے کے فوری بعد تمام سیکیورٹی اور انٹیلی جنس ادارے متحرک ہو گئے اور پوری رات مختلف مقامات پر آپریشنز کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ سی ٹی ڈی خیبرپختونخوا پولیس نے انتہائی پیشہ ورانہ انداز میں کارروائیاں کرتے ہوئے حملے سے جڑے تقریباً تمام افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔

محسن نقوی کے مطابق دھماکے کے فوراً بعد نوشہرہ میں چھاپہ مارا گیا جہاں سے چار سہولت کار گرفتار کیے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ حملے کا ماسٹر مائنڈ افغان شہری ہے جس کا تعلق کالعدم تنظیم داعش سے ہے اور وہ اس وقت قانون نافذ کرنے والے اداروں کی حراست میں ہے۔

انہوں نے کہا کہ حملے کی مکمل منصوبہ بندی افغانستان میں ہوئی اور خودکش حملہ آور کی تربیت بھی وہیں دی گئی تھی، جس سے متعلق سیکیورٹی اداروں کے پاس پہلے سے معلومات موجود تھیں۔ وزیر داخلہ کے مطابق دو افراد نے حملے سے قبل ریکی بھی کی تھی۔

محسن نقوی نے بتایا کہ چھاپوں کے دوران خیبرپختونخوا پولیس کا ایک اے ایس آئی شہید ہوا، جس پر انہوں نے شہید اہلکار کو خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ قوم اس قربانی کو کبھی فراموش نہیں کرے گی۔

وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ اگرچہ اتنی جلدی گرفتاریاں متوقع نہیں تھیں لیکن اداروں نے غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے داعش کے پورے نیٹ ورک کو بے نقاب کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ عناصر پیسوں کے لیے دہشت گردی کرتے ہیں اور ان کے خلاف کارروائیاں بلا تفریق جاری رہیں گی۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا