ضرورت پڑی تو افغانستان میں فضائی کارروائی کرسکتے ہیں: وزیر دفاع خواجہ آصف

0
294

اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ کابل حکومت دہشت گردی کے خلاف سنجیدہ اقدامات نہیں کر رہی، اگر پاکستان کے خلاف حملے جاری رہے تو ضرورت پڑنے پر افغانستان میں فضائی کارروائی کا آپشن استعمال کیا جا سکتا ہے۔

فرانسیسی نشریاتی ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں وزیر دفاع سے سوال کیا گیا کہ اگر پاکستان نے کابل اور قندھار سمیت افغانستان کے اندر کارروائیاں کیں تو کیا یہ سلسلہ جاری رہے گا؟ اس پر انہوں نے کہا کہ یہ آپشن ہمیشہ سے موجود ہے اور پاکستان ایسا کرنے سے نہیں ہچکچائے گا۔

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ اگر کابل حکومت امن کی ضمانت دے اور اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکے تو کسی تصادم کی ضرورت پیش نہیں آئے گی، تاہم اگر دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی یا معاونت جاری رہی تو پاکستان اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ پاکستان پر ہونے والے حملے طالبان حکومت اور بھارت کی پراکسی جنگ کا نتیجہ ہیں۔ ان کے مطابق کالعدم ٹی ٹی پی، داعش اور دیگر دہشت گرد تنظیمیں افغانستان میں موجود ہیں اور ان کی سرگرمیاں کابل کی مرضی یا سرپرستی کے بغیر ممکن نہیں۔

وزیر دفاع نے مزید کہا کہ افغانستان پر عملی کنٹرول دہشت گرد گروہوں کے پاس ہے، اگر یہ عناصر افغان سرزمین سے کارروائیاں کر رہے ہیں تو اس کی ذمہ داری بھی افغان حکومت پر عائد ہوتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ کچھ دوست ممالک نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان ثالثی کی کوششیں کیں۔ وہ استنبول، دوحہ اور کابل میں ہونے والی مختلف ملاقاتوں کا حصہ بھی رہے، تاہم ان سفارتی کوششوں کا کوئی ٹھوس نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔

وزیر دفاع نے واضح کیا کہ پاکستان اپنی سلامتی اور سرحدوں کے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا