پاکستانی نوادرات: چوری، واپسی اور جوابدہی؟

0
1114

تحریر و تحقیق : مسعود چوہدری

۔13 مئی 2026 کو اسلام آباد میوزیم میں منعقدہ ایک تقریب میں امریکہ نے پاکستان کو 450 سے زائد نایاب تاریخی و ثقافتی نوادرات باقاعدہ طور پر واپس کیے، جن کی مجموعی مالیت تقریباً 23 ملین امریکی ڈالر بتائی گئی ہے۔ اسی موقع پر وفاقی وزیر کی زیرِ صدارت ‘Legacy Returns Home’ کے عنوان سے ایک نمائش کا افتتاح بھی کیا گیا، جس میں چار مختلف کھیپوں کی صورت میں اگست 2021 سے اگست 2025 کے درمیان واپس آنے والے نوادرات میں سے 170 منتخب اشیا عوام کی دید کے لیے رکھی گئیں۔ ان میں دوسری صدی عیسوی کا ایک نایاب بدھ پادہ مجسمہ بھی شامل ہے جس کی مالیت تقریباً 1.1 ملین ڈالر بتائی جاتی ہے، اس کے علاوہ گندھارا اور مہرگڑھ سے تعلق رکھنے والی متعدد نادر اشیا بھی نمائش کا حصہ بنیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ نوادرات کی مجموعی تعداد کے بارے میں سرکاری بیانات میں معمولی تضاد بھی سامنے آیا ہے۔ امریکی سفارت خانے کی جانب سے 450 سے زائد اشیا کی حالیہ واپسی کی تصدیق کی گئی، جبکہ پاکستان کے پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے مطابق سال 2007 سے اب تک مجموعی طور پر 513 نوادرات وطن واپس آ چکے ہیں۔ بعض امریکی ذرائع اور رپورٹس میں یہی عدد 514 بھی لکھا گیا ہے۔ یہ فرق غالباً گنتی کے دائرہ کار یا کسی ایک شے کے بعد ازاں شامل ہونے سے متعلق ہو سکتا ہے، تاہم حتمی طور پر کسی ایک عدد کو حرفِ آخر سمجھنا مناسب نہیں ہوگا۔

ان نوادرات کی امریکہ سے بازیابی میں مین ہیٹن ڈسٹرکٹ اٹارنی کے دفتر کی اینٹیکوئٹیز ٹریفکنگ یونٹ، امریکی ہوم لینڈ سکیورٹی، اور پاکستانی حکام کے مابین برسوں پر محیط ایک مربوط کارروائی کا کردار رہا ہے۔ دستیاب شواہد کے مطابق ان میں سے متعدد نوادرات بین الاقوامی اسمگلنگ نیٹ ورکس سے متعلق تحقیقات کے دوران برآمد ہوئے، جن میں سب سے نمایاں نام سبھاش کپور کا ہے، جسے دنیا کے بدنام ترین نوادرات اسمگلروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ کپور نیویارک میں ایک آرٹ گیلری چلاتا تھا اور مختلف ممالک سے لوٹے گئے نوادرات امیر خریداروں، عجائب گھروں اور نجی کلیکشنز کو فروخت کرتا رہا۔ امریکی اور بھارتی تحقیقات کے مطابق اس کے نیٹ ورک نے ہزاروں نوادرات کی غیر قانونی تجارت کی، اور وہ 2011 میں گرفتار ہونے کے بعد بھارت میں سزا بھی پا چکا ہے، جبکہ امریکہ میں بھی اس کے خلاف مقدمات چلتے رہے۔

مینہٹن کے حکام کی 2022 کی تحقیقات میں دو پاکستانی نژاد افراد، زاہد پرویز اور زیشان بٹ، کے نام بھی سامنے آئے تھے۔ تحقیقات کے مطابق ان افراد کے اسلام آباد، دبئی، ہانگ کانگ اور بنکاک میں کاروباری روابط کے ذریعے افغانستان، پاکستان اور بھارت سے حاصل شدہ نوادرات بین الاقوامی آرٹ مارکیٹ تک پہنچائے گئے۔ ایک اور نام نایف حمصی کا بھی سامنے آتا ہے، جس سے برآمد ہونے والے 45 نوادرات امریکہ نے 2020 میں پاکستان کے حوالے کیے تھے۔ امریکی حکام کے مطابق وہ جنوبی ایشیا سے قدیم نوادرات کی غیر قانونی خرید و فروخت اور برآمد میں ملوث رہا۔

تاہم ان تمام تحقیقات میں پاکستان کے اندر اصل چوری، غیر قانونی کھدائی اور اسمگلنگ میں ملوث مقامی عناصر کے نام عوامی سطح پر مکمل طور پر سامنے نہیں آئے۔ یہ سوال بدستور موجود ہے کہ آیا کسی پاکستانی سرکاری افسر، محکمہ آثارِ قدیمہ کے اہلکار یا کسٹمز اہلکار کی ملی بھگت اس سارے عمل میں شامل رہی؛ اس ضمن میں دستیاب معلومات محدود ہیں اور محض قیاس پر مبنی الزام تراشی مناسب نہیں، تاہم یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب متعلقہ اداروں کو دینا چاہیے۔ اسی طرح یہ بھی واضح نہیں کہ آیا پاکستان کے اندر ان نوادرات کی چوری اور اسمگلنگ سے متعلق کوئی مقدمہ کسی تھانے، ایف آئی اے یا کسٹمز میں درج کیا گیا ہے یا نہیں۔ قومی ورثے کے تحفظ کا تقاضا ہے کہ حکومت اس معاملے کو محض ایک نمائشی و علامتی واقعے تک محدود رکھنے کے بجائے، ذمہ داروں کے تعین اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے ایک شفاف اور مربوط طریقہ کار وضع کرے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا