خیبر پختونخوا میں بڑھتی دہشت گردی کی وجہ ناکام خارجہ پالیسی ہے: سہیل آفریدی

0
358

پشاور: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ صوبے میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کی ایک بڑی وجہ ناکام خارجہ پالیسی ہے، بند کمروں میں بیٹھ کر فیصلے کرنے کی پالیسی کارآمد اور مؤثر ثابت نہیں ہورہی۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ پالیسی دیرپا امن کے قیام میں کامیاب نہیں ہوسکی۔

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے کوہاٹ کا دورہ کیا اور ڈی ایچ کیو اسپتال جاکر پولیس لائنز دہشت گردی کے واقعے میں زخمی ہونے والے پولیس اہلکاروں کی عیادت کی۔ انہوں نے کوہاٹ پولیس لائنز دہشت گردی کے شہدا کے اہلخانہ سے بھی ملاقات کی اور ان سے تعزیت کا اظہار کیا۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبر پختونخوا نے 2004 سے اب تک دہشت گردی کے خلاف بے شمار قربانیاں دی ہیں اور دہشت گردی کے باعث صوبے میں 80 ہزار قیمتی جانیں ضائع ہوچکی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی حکومت کے دوران خیبر پختونخوا میں امن دیکھنے میں آیا تھا۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ قبائلی اضلاع کے معاشی حالات خراب ہوچکے ہیں جبکہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی بڑھ رہی ہے اور اس میں مزید اضافہ ہورہا ہے۔ ان کے مطابق دہشت گردی میں اضافے کی ایک وجہ ناکام خارجہ پالیسی بھی ہے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ پالیسی دیرپا امن کے لیے مؤثر ثابت نہیں ہورہی۔ ہماری پالیسی پاکستان تحریک انصاف کے فائدے کے لیے نہیں بلکہ خیبر پختونخوا اور پورے ملک کے مفاد میں ہے۔ اگر ہماری پالیسی پر عمل کیا جائے تو 100 دن میں امن قائم کیا جاسکتا ہے، تاہم مسئلہ یہ ہے کہ ہماری پالیسی پر عمل کون کرے گا۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ بعض عناصر پاکستان تحریک انصاف کو ختم کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ ایک صوبے کا وزیراعلیٰ جب دوسرے صوبے کا دورہ کرتا ہے تو اس کے ساتھ جو رویہ اختیار کیا جاتا ہے، وہ سب کے سامنے ہے۔ وزیراعلیٰ کو دوسرے صوبے میں احتجاج سے روکا جاتا ہے اور وفاقی ادارے بھی پی ٹی آئی کو ختم کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا کہ ہمیں دہشت گرد کہا جاتا ہے اور دوسری جانب یہ کہا جاتا ہے کہ بھارت سے خطرہ نہیں۔ اگر بھارت سے خطرہ نہیں تو پھر تین صوبوں سے خطرہ کیوں قرار دیا جارہا ہے؟ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام اور پولیس کو اپنے لیے خود کھڑا ہونا ہوگا، میں اپنے عوام کے ساتھ کھڑا ہوں اور ان کے ساتھ رہوں گا۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز کوہاٹ میں پرانی پولیس لائنز کی مسجد کے قریب خودکش دھماکے میں 16 پولیس اہلکاروں سمیت 22 افراد شہید ہوئے تھے جبکہ واقعے میں متعدد افراد زخمی ہوئے تھے

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا