اسلام آباد(طلوع نیوز)وکیل قتل کیس،عدالت نے 24 اگست تک عمران خان کی گرفتار سے روک دیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق سپریم کورٹ میں وکیل عبدالرزاق شر قتل کے مقدمے میں نامزد چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی اپیل پر سماعت ہوئی،جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی۔ مدعی مقدمہ کے وکیل امان اللہ کنرانی نے بینچ کے دو ارکان پراعتراض اٹھا دیا۔جسٹس حسن اظہر رضوی نے جسٹس یحییٰ آفریدی سے مکالمہ کیا کہ انہیں کہیں جو الزامات لگائے ہیں ان کا ثبوت دیں ورنہ توہین عدالت کا نوٹس کریں۔ جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے ریمارکس دئیے کہ آپ نے جو الزامات لگائے ہیں ان کا ثبوت دینا ہو گا،ہم کمزور نہیں ہیں۔ وکیل امان اللہ کنرانی نے کہا کہ میں آپ کا غلام نہیں عام شہری ہوں،رائے کی آزادی حاصل ہے۔جسٹس مظاہر نقوی نے مکالمہ کیا کہ کیا ہم غلام ہیں؟۔ جسٹس مظاہر نقوی نے جسٹس حسن اظہر رضوی سے سوال کیا کہ کیا آپ معافی قبول کر رہے ہیں؟ جسٹس حسن اظہر رضوی نے قرار دیا کہ معافی اس شرط پر قبول کر رہا ہوں کہ یہ الزامات واپس لیں۔ہم نے 35 سال اس شعبے میں کام کیا ہے۔ جسٹس یحییٰ آفریدی نے جسٹس مظاہر نقوی سے سوال کیا کہ کیا آپ معافی قبول کر رہے ہیں۔جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے جواب دیا کہ ایبسولوٹلی ناٹ،جسٹس یحییٰ آفریدی نے ریمارکس دئیے کہ سنیئر وکیل کو اس انداز میں بات کرنا زیب نہیں دیتا،جسٹس یحییٰ آفریدی نے وکیل کو کہا کہ فوری طور پر معافی مانگیں۔ وکیل امان اللہ کنرانی نے کمرہ عدالت میں ہاتھ جوڑ کر معافی مانگ لی۔ وکیل نے کہا کہ آپ تو بڑے ہیں،میں معافی مانگ لیتا ہوں،آپ جج بنیں تو ٹھیک ہے اگر پارٹی بنیں گے تو میں بولوں گا۔میری تو اتنی استدعا ہے کہ کیس میرٹ پر سنا جائے۔ سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ کیس شروع ہوتے ہی وکیل نے اعتراض کر دیا،وکیل امان اللہ کا رویہ نا قابل قبول تھا۔ عدالتی وقار مجروح کیا گیا،وکیل کو معافی مانگنے کا کہا گیا۔امان اللہ کنرانی نے عدالت سے غیر مشروط معافی مانگ لی۔ بعد ازاں سپریم کورٹ نے 24 اگست تک عمران خان کی گرفتاری سے روک دیا اور کیس کی سماعت 24 اگست تک ملتوی کر دی۔






