اسلام آباد (طلوع نیوز)سابق وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ اور سینیٹر عرفان صدیقی نے سپریم کورٹ کے فیصلے پراپنے ردعمل میں کہا ہے کہ پارلیمنٹ کے اختیارات میں بار بار مداخلت اچھی روایت نہیں،اس مداخلت سے ادارے مضبوط نہیں،کمزور ہوں گے،تاثر جاتا ہے کہ پارلیمان کی غیر موجودگی کا فائدہ اٹھایا گیا،نواز شریف کے کیس میں اس فیصلے کا کوئی اثر نہیں پڑے گا،سیاست میں حصہ لینا سب کا بنیادی حق ہے،نا اہلی کی سزا پانچ سال سے زیادہ نہیں ہو سکتی۔ تفصیلات کے مطابق سابق وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے سپریم کورٹ کی جانب سے ریویو آف آرڈر اینڈ ججمنٹس ایکٹ کالعدم قرار دینے پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ آئین میں طریقہ کار واضح ہے اداروں نے کیسے چلنا ہے،تاثر جاتا ہے کہ پارلیمان کی غیر موجودگی کا فائدہ اٹھایا گیا۔اس مداخلت سے ادارے مضبوط نہیں،کمزور ہوں گے،یہ قانون بار کونسلز اور بار ایسوسی ایشنز کا پرانا مطالبہ تھا۔ انکا کہنا تھا کہ سمجھ سے بالا تر ہے جس ڈاکٹر سے شفاء نہیں مل رہی،کہا جا رہا ہے دوسرا آپریشن بھی اسی سے کرایا جائے۔ اعظم نذیر تارڑ نے واضح کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف کے کیس میں اس فیصلے کا کوئی اثر نہیں پڑے گا،قانون سازی کے بعد سب اب پانچ کے بعد سیاست کیلئے اہل ہو چکے ہیں۔سیاست میں حصہ لینا سب کا بنیادی حق ہے،نا اہلی کی سزا پانچ سال سے زیادہ نہیں ہو سکتی۔پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا ہے کہ ریویو ایکٹ کا فیصلہ سنانے کے لیے اس لیے 53 دن انتظار کیا کہ قومی اسمبلی تحلیل ہو جائے۔سوشل میڈیا پر اس حوالے سے سینیٹر عرفان صدیقی نے اپنے بیان میں کہا کہ عدالتی فیصلے “واردات” بن جائیں تو پاکستانی عدلیہ کا عالمی انڈیکس میں 130 واں نمبر حیرت کی بات نہیں۔ جبکہ جسٹس ریٹائرڈ شائق عثمانی نے کہا کہ یہ ایکٹ قانون تو بن گیا تھا،ایکٹ کالعدم ہونے کے بعد حکومت صرف نظر ثانی میں جا سکتی ہے۔ پارلیمنٹ کی جانب سے منظور قانون کو سپریم کورٹ کالعدم قرار دے سکتی ہے۔ یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے سپریم کورٹ ریویو آف آرڈر اینڈ ججمنٹس ایکٹ کالعدم قرار دے دیا۔سپریم کورٹ نے سپریم کورٹ ریویو آف آرڈر اینڈ ججمنٹس ایکٹ سے متعلق متفقہ طور پر فیصلہ سنا دیا۔ چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے فیصلہ سنایا۔ جسٹس منیب اختر کا اضافی نوٹ بھی متفقہ فیصلے میں شامل ہے۔ عدالت عظمٰی نے سپریم کورٹ ریویو آف آرڈر اینڈ ججمنٹس ایکٹ کیخلاف درخواستیں منظور کر لیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ سپریم کورٹ ریویو ایکٹ آئین کیخلاف ہے،پارلیمنٹ نے اپنے دائرہ اختیار سے تجاوز کیا۔






