اسلام آباد: قومی اسمبلی میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے آئندہ مالی سال کے لیے 18 ہزار 771 ارب روپے کا وفاقی بجٹ پیش کر دیا۔
اپنی بجٹ تقریر میں وزیر خزانہ نے اتحادی جماعتوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کا تیسرا بجٹ پیش کرنا ان کے لیے اعزاز ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال سیلابی نقصانات اور عالمی چیلنجز کے باوجود پاکستان کی معاشی شرح نمو 3.7 فیصد تک پہنچی۔ لارج اسکیل مینوفیکچرنگ میں 6.1 فیصد اور سروسز سیکٹر میں 4.1 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
وزیر خزانہ کے مطابق ملک کی معیشت کا حجم 452 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے جبکہ فی کس آمدنی 1751 ڈالر سے بڑھ کر 1901 ڈالر ہو گئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ زرمبادلہ ذخائر 4 ارب ڈالر سے بڑھ کر 17 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے ہیں اور یہ تین ماہ کی درآمدات کے لیے کافی ہیں۔
ترسیلات زر کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال 38 ارب ڈالر تھیں جبکہ رواں سال 41 ارب ڈالر سے تجاوز کرنے کی توقع ہے۔
آئندہ مالی سال کے لیے اقتصادی ترقی کی شرح 4 فیصد اور مہنگائی 8.2 فیصد رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ بجٹ خسارہ جی ڈی پی کے 3.6 فیصد جبکہ پرائمری سرپلس 2 فیصد رہنے کی توقع ہے۔
آمدنی اور محصولات
ایف بی آر محصولات کا ہدف 15 ہزار 264 ارب روپے رکھا گیا ہے جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 17.6 فیصد زیادہ ہے۔ وفاقی محصولات میں صوبوں کا حصہ 8 ہزار 848 ارب روپے ہوگا۔
نان ٹیکس آمدنی کا ہدف 5 ہزار 336 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے جبکہ وفاقی حکومت کی خالص آمدنی 11 ہزار 751 ارب روپے رہے گی۔
اخراجات اور دفاعی بجٹ
وفاقی حکومت کے کل اخراجات 18 ہزار 771 ارب روپے ہوں گے جن میں 8 ہزار 54 ارب روپے سود کی ادائیگی کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔
دفاع کے لیے 3 ہزار ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ سول انتظامیہ کے لیے 1 ہزار 71 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔
پنشن اخراجات 1 ہزار 169 ارب روپے، جب کہ ملٹری پنشن 822 ارب روپے اور سول پنشن 272 ارب روپے رہنے کا تخمینہ ہے۔
سبسڈی کی مد میں 1 ہزار 91 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
توانائی اور پانی کے منصوبے
واپڈا اور توانائی منصوبوں کے لیے 50.2 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے 8 ہائیڈرو پاور منصوبوں کے لیے 13.1 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔
دیامر بھاشا ڈیم کے لیے 14 ارب، مہمند ڈیم کے لیے 22 ارب، داسو منصوبے کے لیے 15 ارب اور K-IV واٹر منصوبے کے لیے 10 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
سماجی شعبہ
بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے لیے 838 ارب روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے جو گزشتہ سال سے 17 فیصد زیادہ ہے۔
صحت کے لیے 25 ارب 10 کروڑ روپے اور اعلیٰ تعلیم کے لیے 46 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
تنخواہیں اور ٹیکس ریلیف
سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ کم از کم اجرت میں 10 فیصد اضافہ تجویز کیا گیا ہے۔
تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس سلیب میں ریلیف دیتے ہوئے کئی شرحوں میں کمی کی تجویز ہے، جبکہ 9 فیصد سرچارج ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
سپر ٹیکس میں بھی کمی یا خاتمے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ چھوٹے دکانداروں کے لیے فکسڈ ٹیکس سسٹم متعارف کرانے کی تجویز شامل ہے۔






