واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ دستخط کے لیے تیار ہے اور توقع ہے کہ اس پر کل دستخط کیے جائیں گے، جس کے بعد آبنائے ہرمز تمام ممالک کے لیے کھول دی جائے گی۔
اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ سابق امریکی صدر باراک اوباما کا ایران کے ساتھ معاہدہ ایسا راستہ تھا جو بالآخر ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی طرف لے جا سکتا تھا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی انتظامیہ کا ایران کے ساتھ مجوزہ معاہدہ اس کے برعکس ہے اور یہ ایٹمی ہتھیاروں کے حصول کے خلاف ایک مضبوط رکاوٹ ثابت ہوگا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق ایران نہ صرف ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کر سکے گا بلکہ مستقبل میں بھی کسی ذریعے سے جوہری صلاحیت حاصل کرنے کے قابل نہیں ہوگا۔
امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے پر دستخط ہوتے ہی آبنائے ہرمز کو بین الاقوامی بحری آمدورفت کے لیے مکمل طور پر کھول دیا جائے گا، جس سے عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل میں استحکام آئے گا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ موجودہ معاہدہ سابقہ انتظامیہ کے معاہدوں سے مختلف ہے کیونکہ اس میں کسی قسم کی مالی ادائیگی یا نقد رقم کا تبادلہ شامل نہیں ہے۔ ان کے بقول جب خطے میں حالات مکمل طور پر معمول پر آ جائیں گے تو باقی ماندہ جوہری مواد کو بھی حاصل کر لیا جائے گا۔
امریکی صدر نے کہا کہ امریکا مستقبل میں ایران اور مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک کے ساتھ طویل المدتی تعاون کا خواہاں ہے اور امید ہے کہ یہ عمل جلد اور آسانی سے مکمل ہو جائے گا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر سفارتی عمل کامیاب نہ ہوا تو امریکا کے پاس دیگر متبادل بھی موجود ہیں، تاہم امید ہے کہ ان اقدامات کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔






