دہشت گردوں کو 100 گنا جواب دیں گے، افغان طالبان دہشت گردی کی پشت پناہی کر رہے ہیں: آئی ایس پی آر

0
159

راولپنڈی: پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ ملک بھر میں دہشت گردی کے خلاف 40 ہزار سے زائد انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے جا چکے ہیں اور دہشت گردوں کے پاس صرف دو راستے ہیں، یا تو قانون کے مطابق ہتھیار ڈال دیں یا پھر سکیورٹی فورسز انہیں انجام تک پہنچا دیں گی۔

انسداد دہشت گردی اور سکیورٹی امور پر پریس بریفنگ دیتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران بڑے پیمانے پر انسداد دہشت گردی آپریشنز کیے گئے، جن میں بلوچستان میں 31 ہزار جبکہ خیبرپختونخوا میں 7 ہزار 177 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ رواں سال دہشت گردی کے واقعات میں 819 افراد شہید ہوئے، جن میں 303 فوجی جوان اور 322 شہری شامل ہیں، جبکہ سکیورٹی فورسز نے 2 ہزار 84 مصدقہ دہشت گرد ہلاک کیے۔ ان کے مطابق فورسز نے روزانہ اوسطاً 194 آپریشنز کیے اور ہر روز تقریباً 10 دہشت گرد مارے گئے۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا تھا کہ زیادہ تر خودکش حملوں میں افغان باشندے ملوث پائے گئے ہیں اور افغانستان کی طالبان حکومت دہشت گردوں کی معاونت کر رہی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ افغان طالبان کی پالیسی دہشت گردی کے گرد گھومتی ہے اور دہشت گردوں سمیت ان کے سہولت کاروں کو ایسا جواب دیا جائے گا جو وہ ہمیشہ یاد رکھیں گے۔

بلوچستان کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بعض عناصر جان بوجھ کر یہ تاثر دیتے ہیں کہ صوبے میں حالات خراب ہیں، جبکہ اصل مسئلہ وہاں کا مراعات یافتہ طبقہ اور سرداری نظام ہے، جو ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سکیورٹی ادارے بلوچستان کے عوام کے ساتھ کھڑے ہیں، نہ کہ کسی مخصوص طبقے کے ساتھ۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان میں قانون کی حکمرانی ہی مضبوط ریاست کی بنیاد ہے اور “ہارڈ اسٹیٹ” کا مطلب فوجی حکومت نہیں بلکہ آئین اور قانون کی بالادستی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ریاست کے ساتھ وفاداری ہر شہری کی ذمہ داری ہے کیونکہ ریاست ہی سب سے بڑی شناخت ہے۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں، جس کے باعث وہ اب سافٹ ٹارگٹس کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ رواں سال دہشت گردوں نے 178 شہریوں کو شہید کیا، 24 مقامات پر پل اور سڑکیں تباہ کیں اور 60 مقامات پر آگ لگائی۔

لاپتا افراد کے معاملے پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ متعدد ایسے افراد بعد میں دہشت گرد تنظیموں میں شامل یا مختلف کارروائیوں میں مارے گئے، جبکہ بھارت بلوچستان سے متعلق 300 سے زائد جعلی ویب سائٹس کے ذریعے پروپیگنڈا کر رہا ہے۔

افغان مہاجرین کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ اب تک 26 لاکھ افغان شہری واپس جا چکے ہیں، جبکہ انسانی اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں میں ساڑھے چار ہزار افراد گرفتار اور تقریباً 25 ارب روپے مالیت کا اسمگل شدہ سامان ضبط کیا گیا ہے۔

وزیر داخلہ محسن نقوی کے حالیہ بیان پر سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ ان کی ذاتی رائے ہے، تاہم اس بات پر زور دیا کہ نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عمل درآمد اور مؤثر گڈ گورننس کے بغیر مسائل حل نہیں ہو سکتے۔

کشمیر کے حوالے سے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ کشمیر پاکستان کا اٹوٹ انگ تھا، ہے اور رہے گا، جبکہ اس کا مستقبل کشمیری عوام اپنی مرضی سے طے کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کا اسٹریٹجک شراکت دار ہے، سعودی عرب خادم الحرمین الشریفین ہے جبکہ پاکستان محافظِ حرمین الشریفین ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا