سپریم کورٹ کے چار ججز نے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کو خط لکھا ہے جس میں سپریم کورٹ رولز 2025ء کو سرکولیشن کے ذریعے منظور کرنے پر تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ خط میں کہا گیا کہ قواعد اجتماعی مشاورت کے بغیر نوٹیفائی کیے گئے، سرکولیشن معمولی انتظامی امور کے لیے ہوتا ہے، آئینی قواعد اس طریقے سے منظور نہیں کیے جا سکتے۔ ججز نے مؤقف اپنایا کہ فل کورٹ کو بعد میں شامل کرنا غیر قانونی عمل کو قانونی رنگ دینے کی کوشش ہے، خط لکھنے والے چاروں ججز جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس اطہر من اللہ نے فل کورٹ میں شرکت نہیں کی۔ قواعداجتماعی طور پر عدالت ہی منظور کرتی ہے، چیف جسٹس اکیلے اس اختیار کے مجاز نہیں۔
ججز نے کہا کہ 9 اگست کو رولز نوٹیفائی ہوئے، پھر 12 اگست کو ترامیم کی تجاویز طلب کی گئیں اور فل کورٹ اجلاس بلایا گیا، یہ سب عمل تضاد کا شکار ہے۔ ان کے مطابق فل کورٹ اجلاس محض رسمی توثیق تک محدود کیا جا رہا ہے، جبکہ آئینی طور پر ضروری ہے کہ قواعد مکمل شکل میں فل کورٹ کے سامنے پیش ہوں اور کھلی بحث کے بعد منظور ہوں۔
ججز نے مطالبہ کیا کہ ان کے خط کو فل کورٹ اجلاس کے منٹس کا حصہ بنایا جائے اور عوام کے سامنے پیش کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کو جاننے کا حق ہے کہ قواعد کس طرح بغیر مشاورت نوٹیفائی ہوئے، شفافیت ہی عدلیہ پر عوامی اعتماد کی بنیاد ہے، اور اعتماد صرف کھلی بحث سے ہی مضبوط ہو سکتا ہے۔






