وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور نے کہا ہے کہ انتظامیہ نے عمران خان سے ملاقات روک کر پارٹی میں تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کی ہے اور بعض لوگ اس ایجنڈے پر بے وقوف بن جاتے ہیں۔ وہ صوبائی کابینہ کے ہمراہ راولپنڈی پہنچے مگر پولیس نے انہیں گورکھپور ناکلے پر روک دیا، جہاں انہوں نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ملاقات نہ کرانے کی کوششیں کنفیوژن بڑھانے اور پارٹی کو تقسیم کرنے کیلئے ہیں۔
علی امین گنڈا پور نے کہا کہ امن کے قیام کیلئے افغانستان، مقامی قبائل اور حکومت کو ساتھ بٹھانا ضروری ہے اور افغانوں کو نکال دینے سے دہشت گردی ختم نہیں ہوگی۔ انہوں نے سیلابی صورتحال، امدادی ناکافی مدد اور خیبرپختونخوا میں 400 اموات کا ذکر کرتے ہوئے وفاقی حکومت پر عدم عملداری کے الزامات عائد کیے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مذاکراتی راستہ اپنانا ہوگا، قبائلی جرگے بلائے گئے اور ٹی او آرز وفاق کو بھیجے گئے مگر کوئی جواب نہیں ملا۔ انہوں نے کہا کہ ملاقاتیں روکے جانے سے شکوک بڑھتے ہیں اور پارٹی کے اندر تقسیم کا ایجنڈا مضبوط ہوتا ہے۔




