استنبول: پاکستان اور افغانستان کے مذاکرات ناکام، پاکستانی وفد واپس روانہ

0
364

پاکستان اور افغانستان کے درمیان استنبول میں ہونے والے مذاکرات ناکام ہو گئے جس کے بعد پاکستانی وفد واپس روانہ ہو گیا۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ مذاکرات کا اگلا دور اب کوئی پروگرام نہیں اور ہمارا خالی ہاتھ واپس آنا اس بات کی دلیل ہے کہ ثالثوں کو بھی افغانستان سے امید نہیں رہی۔

وزیر دفاع نے کہا کہ ترکی اور قطر نے خلوص کے ساتھ ثالثی کا کردار ادا کیا اور پاکستان کے موقف کی حمایت کی۔ انہوں نے بتایا کہ افغان وفد تحریری معاہدے پر راضی نہیں تھا اور صرف زبانی یقین دہانیاں دینے پر اصرار کر رہا تھا، جبکہ بین الاقوامی مذاکرات میں حتمی بات ہمیشہ تحریری طور پر کی جاتی ہے۔

خواجہ آصف نے واضح کیا کہ اگر افغان سرزمین سے پاکستان پر حملہ ہوتا ہے تو اس کے مطابق ردعمل دیا جائے گا، اور اگر کوئی کارروائی نہیں ہوتی تو سیز فائر قائم رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا ایک ہی مطالبہ ہے کہ افغانستان کی سرزمین سے پاکستان پر حملہ نہ ہو۔

انہوں نے مزید کہا کہ افغان طالبان کو زبانی یقین دہانیاں دینے کے بجائے تحریری معاہدے کا حصہ بننا چاہیے تاکہ دونوں ممالک اور پورے خطے کے لیے بہتر صورتحال پیدا ہو۔ خواجہ آصف نے یہ بھی کہا کہ اگر کالعدم ٹی ٹی پی کے افراد افغان طالبان کے قابو میں نہیں ہیں تو پاکستان کو انہیں قابو کرنے کی اجازت دی جائے، اور اگر پاکستان کارروائی کرتا ہے تو افغانستان کو اس پر اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔

یاد رہے کہ یہ مذاکرات استنبول میں پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان تیسرے دور کے طور پر شروع ہوئے تھے لیکن دونوں جانب سے اتفاق نہ ہونے کی وجہ سے ڈیڈلاک میں ختم ہو گئے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا