امریکا نے سوئٹزرلینڈ مذاکرات کے نتیجے میں ایرانی تیل کی فروخت پر عائد پابندی عارضی طور پر اٹھا لی

0
433

امریکا نے ایران کے لیے جنرل لائسنس جاری کرتے ہوئے خام تیل اور پیٹروکیمیکل مصنوعات کی پیداوار، ترسیل اور فروخت پر عائد بعض پابندیوں میں عارضی نرمی کا اعلان کر دیا ہے۔

امریکی وزیر خزانہ نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ ایرانی تیل اور پیٹروکیمیکل شعبے پر عائد پابندیوں میں عارضی ریلیف کا فیصلہ سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکرات کے بعد کیا گیا۔

امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق جنرل لائسنس کے تحت ایران کو خام تیل، پیٹروکیمیکل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات کی پیداوار اور برآمد کی اجازت دی گئی ہے۔ اس اجازت کی مدت 21 اگست 2026 تک ہوگی۔

محکمہ خزانہ کا کہنا ہے کہ لائسنس کے تحت ایرانی خام تیل اور پیٹروکیمیکل مصنوعات کی امریکا میں درآمد کی بھی اجازت ہوگی، جو دونوں ممالک کے درمیان جاری سفارتی پیش رفت کا اہم حصہ سمجھی جا رہی ہے۔

واضح رہے کہ امریکا نے ماضی میں ایران کی تیل برآمدات پر سخت پابندیاں عائد کر رکھی تھیں۔ تاہم حالیہ مذاکرات کے بعد پابندیوں میں محدود نرمی کی گئی ہے۔

چند روز قبل بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز نے ایک سینئر ایرانی عہدیدار کے حوالے سے رپورٹ کیا تھا کہ مجوزہ معاہدے کے تحت امریکا ایرانی تیل پر عائد پابندیوں کو ایک مخصوص مدت کے لیے نرم کرے گا، جس سے ایران کو تیل فروخت کرنے اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی تک رسائی مل سکے گی۔ ساتھ ہی حتمی معاہدے تک ایران پر نئی اقتصادی پابندیاں عائد نہ کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا