وزیراعظم شہباز شریف نے ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کے حوالے سے دوہرے معیار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ اگر دیگر ممالک اپنے دفاع کے لیے بیلسٹک میزائل رکھ سکتے ہیں تو ایران کے حق پر اعتراض کیوں کیا جاتا ہے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ بیلسٹک میزائل کا معاملہ مذاکراتی ایجنڈے کا حصہ نہیں تھا اور دنیا میں اس حوالے سے یکساں اصول اپنائے جانے چاہئیں۔
انہوں نے کہا کہ بعض عناصر امن کی کوششوں کو ناکام بنانا چاہتے ہیں، تاہم پاکستان اور ایران کی قیادت اس معاہدے کو سبوتاژ کرنے والوں کے سامنے آہنی دیوار بن کر کھڑی رہے گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان خطے میں پائیدار امن کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گا۔
شہباز شریف نے ایران کے ساتھ ہر شعبے میں تعاون بڑھانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی کامیابی پاکستان کی کامیابی اور ایران کی ناکامی پاکستان کی ناکامی ہے۔ انہوں نے قطر، سعودی عرب، ترکیہ اور دیگر دوست ممالک کی جانب سے امن عمل کی حمایت کو بھی سراہا۔
اس موقع پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران اپنے میزائل پروگرام پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ انہوں نے پاکستان کی قیادت، خصوصاً وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی امن کوششوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
ایرانی صدر نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے تعلقات تاریخی، برادرانہ اور منفرد نوعیت کے ہیں اور دونوں ممالک مشترکہ مستقبل اور مشترکہ مفادات کے شراکت دار ہیں۔
دریں اثنا پاکستان کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان کو ان کی خدمات کے اعتراف میں اعزازی فیلوشپ سے نوازا۔ تقریب میں وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے شرکت کی۔






