کوئٹہ: بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے نواحی علاقے سورینج میں کوئلے کی کان میں ہونے والے دھماکے کے بعد جاری ریسکیو آپریشن کے دوران اب تک 11 کان کنوں کی لاشیں نکال لی گئی ہیں، جبکہ دیگر پھنسے مزدوروں تک رسائی کے لیے امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔
صوبائی وزیر مائنز اینڈ منرلز شعیب نوشیروانی نے بتایا کہ ریسکیو ٹیمیں انتہائی دشوار حالات کے باوجود مسلسل آپریشن میں مصروف ہیں اور کان میں پھنسے دیگر مزدوروں تک پہنچنے کے لیے تمام دستیاب وسائل استعمال کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت جاں بحق کان کنوں کے اہل خانہ کے غم میں برابر کی شریک ہے۔ جاں بحق ہر مزدور کے لواحقین کو 5 لاکھ روپے جبکہ زخمیوں کو 3 لاکھ روپے مالی امداد دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ حادثے کی ہر پہلو سے مکمل تحقیقات بھی کرائی جائیں گی۔
اس سے قبل کوئلہ کان کے مالک نے بتایا تھا کہ کان میں میتھین گیس بھر جانے کے باعث دھماکا ہوا۔ حادثے کے وقت کان میں 42 مزدور موجود تھے اور پھنسنے والے تمام کان کنوں کا تعلق خیبرپختونخوا کے ضلع شانگلہ سے ہے۔





