پنجاب کے وزیر خزانہ شجاع الرحمان نے آئندہ مالی سال کے لیے 5903 ارب روپے سے زائد حجم کا بجٹ پیش کردیا ہے۔ بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 7 فیصد اور پنشن میں 3.5 فیصد اضافے کی تجویز شامل ہے۔
حکومت نے تعلیم کے فروغ کے لیے اہم اقدامات کرتے ہوئے لیپ ٹاپ اسکیم کے لیے 27 ارب روپے جبکہ ہونہار اسکالرشپ پروگرام کے لیے 15 ارب روپے مختص کیے ہیں۔
بجٹ میں صوبائی آمدن کا ہدف 1209 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے۔ ترقیاتی منصوبوں کے لیے 752 ارب روپے اور تعلیمی شعبے کے لیے 750 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
وزیر خزانہ کے مطابق صحت کے شعبے کے لیے مجموعی بجٹ کا 10 فیصد رکھا گیا ہے، جبکہ پنجاب میں ڈیجیٹل سہولتوں کی فراہمی اور جدید تعلیم کے فروغ کو ترجیح دی جائے گی۔
اس سے قبل پنجاب کابینہ نے آئندہ مالی سال کے بجٹ کی منظوری دی۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا کہ وفاقی حکومت کو دفاع اور دیگر امور میں پنجاب نے سب سے زیادہ حصہ دیا ہے۔
بجٹ منظوری کے بعد کابینہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پنجاب کے عوام کی ترقی کے سفر پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا اور عوامی ریلیف و خدمت کا سلسلہ جاری رہے گا۔






