نئے انتظامی یونٹس یا صوبے ناگزیر، موجودہ نظام مسائل حل کرنے کے قابل نہیں:محسن نقوی

0
599

اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ملکی ترقی کے لیے نئے انتظامی یونٹس یا صوبوں کے قیام کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ نظام ناکام ہوچکا ہے اور جب تک بنیادی ڈھانچے میں اصلاحات نہیں کی جاتیں، مسائل برقرار رہیں گے۔

اسلام آباد میں پاکستان کی پہلی اکنامک سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ وہ عموماً سیاسی گفتگو سے گریز کرتے ہیں، تاہم آج اس پر بات کرنا ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جس نظام میں ملک چل رہا ہے وہ گر چکا ہے اور اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو آئندہ دس سال بعد بھی انہی مسائل پر بات ہو رہی ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ نئے انتظامی یونٹس یا صوبوں کی تشکیل وقت کی ضرورت ہے، اس معاملے پر تمام سیاسی جماعتوں کو ایک میز پر بیٹھنا ہوگا اور عوام کو بھی اعتماد میں لینا ہوگا۔

محسن نقوی نے کہا کہ نوجوان میرٹ پر روزگار چاہتے ہیں اور اگر وہ متحد ہوگئے تو بڑی تبدیلی لا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک مسلسل قرضوں پر چل رہا ہے، ہر سال قرضوں کا بوجھ بڑھ رہا ہے، اس لیے نظام کو ری سیٹ کیے بغیر معاشی بہتری ممکن نہیں۔

وفاقی وزیر داخلہ نے وزیراعظم شہباز شریف کی کاوشوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم روزانہ 12 سے 14 گھنٹے کام کرتے ہیں، حتیٰ کہ 18 گھنٹے بھی کام کریں تو وہ صرف “فائر فائٹنگ” ہی کر رہے ہوتے ہیں۔

بعد ازاں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو میں محسن نقوی نے کہا کہ جب تک سیاستدان ملک کا نظام درست نہیں کریں گے، فیلڈ مارشل کی محنت بھی مطلوبہ نتائج نہیں دے سکے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ صدارتی نظام کی بات نہیں کر رہے بلکہ موجودہ جمہوری نظام کے اندر اصلاحات کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو نظام کی بہتری کے لیے مل کر کام کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت اپنی آئینی مدت پوری کرے گی جبکہ بانی پی ٹی آئی سے متعلق فیصلے عدالتیں کریں گی۔ محسن نقوی نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ وفاقی وزیر داخلہ ہی رہیں گے، وزیر خارجہ نہیں بن رہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا